اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر پر عمل نہ ہو سکا،معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپرد
اشاعت کی تاریخ: 9th, March 2025 GMT
اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز پر عمل نہ ہونے سے ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ،چیئرمین سینیٹ
قید کاٹنا سیاستدانوں کا زیور ہے، مشکلات ہوتی ہیں لیکن تشدد والی کہانیاں نہ سنائیں، عرفان صدیقی
چیئرین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد نہ ہونے کا معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپرد کردیااور کہاہے کہ اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر پر عمل نہ ہونے سے ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔سینیٹ کے اجلاس میں اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز پر رولنگ دیتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سینیٹ کے245ویں اجلاس میں سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے،میڈیا رپورٹس سے پتا چلا کہ اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز پر عمل نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز پر عمل نہیں کیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ نے اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد نہ ہونے کا معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپرد کردیا۔ اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد نہ ہونے سے ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔ ن لیگ کے پارلیمانی لیڈر عرفان صدیقی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ صاحب آپ نے ہمارا بہت امتحان لیا،آپ ممبران کے استحقاق کیلئے کوئی رولنگ دیتے ہیں تو پورا ایوان آپ کے ساتھ کھڑا ہے، دونوں سینیٹرز کے پروڈکشن آرڈرز پر عمل ہونا چاہیے، امید ہے اب استحقاق کمیٹی اس معاملے کو دیکھے گی۔انہوں نے کہا کہ قید کاٹنا سیاست دانوں کا زیور ہے، چیئرمین سینیٹ آپ نے 9سال، نواز شریف نے مجموعی طور پر 4سال قید کاٹی،کسی قیدی پر تشدد نہیں ہورہا،جیل میں مشکلات ہوتی ہیں لیکن تشدد والی کہانیاں مت بیان کریں،آپ کے جاری کردہ پروڈکشن آرڈرز پر عمل ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز پر عمل استحقاق کمیٹی چیئرمین سینیٹ نہ ہونے کہا کہ
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔