برطانیہ میں 600 میل طویل برفانی طوفان کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, March 2025 GMT
برطانیہ میں معتدل موسم اور ہلکی دھوپ کے بعد اب ماہرینِ موسمیات نے آئندہ ہفتے برفباری کی پیشگوئی کر دی ہے۔
موسمی ماہرین کے مطابق 12 مارچ کو ملک بھر میں ہلکی برفباری متوقع ہے۔ دوپہر کے وقت جنوب مغربی علاقوں، بشمول چیلٹنم اور کوٹسوالڈز میں 1 سینٹی میٹر تک برف پڑنے کا امکان ہے، جو برمنگھم تک پھیل سکتی ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق برمنگھم سے مانچسٹر کے قریب سے گزرتے ہوئے ایڈنبرا تک برفباری کا امکان ہے، نارتھ پینائنز میں 2 سینٹی میٹر تک برف پڑسکتی ہے، ویلز کے زیادہ تر علاقے متاثر ہوں گے جبکہ پیمبروک شائر میں برفباری کا امکان کم ہے اور اسکاٹ لینڈ کے مشرقی حصے زیادہ تر محفوظ رہیں گے۔
14 مارچ کی صبح 6 بجے مزید برفباری کا امکان ہے، جو جنوب مغربی انگلینڈ کے ایگزیٹر کے شمالی علاقوں، جنوبی ویلز، کونوی، ڈینبیگ شائر، پیک ڈسٹرکٹ اور نارتھ پینائنز کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ سب سے زیادہ برفباری اسکاٹش ہائی لینڈز میں متوقع ہے۔
موسمی ماہرین کے مطابق یہ برفباری شدید نہیں ہوگی بلکہ ہلکی برفانی ہواؤں کے ساتھ چند سینٹی میٹر برف پڑنے کا امکان ہے تاہم، شہریوں کو محتاط رہنے اور موسمی حالات پر نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کا امکان ہے
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔