شہر قائد میں گرمی کی شدت کب تک برقرار رہے گی؟ محکمہ موسمیات نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, March 2025 GMT
محکمہ موسمیات نے شہر قائد کے حوالے سے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں بدھ تک گرمی کی شدت برقرار رہ سکتی ہے جب کہ جمعرات سے موجودہ گرمی کی لہر میں کمی آنا شروع ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق ترجمان محکمہ موسمیات انجم نذیرضیغم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گرمی کی لہر بھارتی راجستھان و قرب وجوار پر موجود دباو کی وجہ سے پیدا ہوئی، دباو کی وجہ سے سمندری ہوائیں معطل ہیں، شمال مغربی و شمال مشرقی سمت کی ہوائیں چل رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ راجستھان پر موجود پریشر بتدریج کم ہورہا ہے، اس وقت بحیرہ عرب میں ایک ہائی پریشر بن رہا، ہائی پریشر کراچی سے دور ہے، قریب آنے پر تیز ہواوں کا سبب بن سکتا ہے۔
ترجمان محکمہ موسمیات نے کہا کہ معمول سے تیز ہواوں کے سبب درجہ حرارت دوبارہ کمی کے بعد 33 تا 34 ڈگری پر آجائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات گرمی کی
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز