UrduPoint:
2026-07-24@13:44:56 GMT

سینیٹ کا پارلیمانی سال مکمل، ایوان مچھلی منڈی بنا رہا

اشاعت کی تاریخ: 11th, March 2025 GMT

سینیٹ کا پارلیمانی سال مکمل، ایوان مچھلی منڈی بنا رہا

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔11 مارچ ۔2025 ) سینیٹ آف پاکستان کا پارلیمانی سال مکمل ہو گیا ، سینیٹ کا سال 11 مارچ کو مکمل ہوتا ہے اور ایک پار لیمانی سال کے دوران 115 دن اجلاس چلایا جاتا ہے رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی سے سینیٹ کو 25 بل بھجوائے گئے، سینیٹ میں ایک سال میں 14 بل متعارف کرائے گئے، پارلیمانی 17 قراردادیں منظور کی گئیں اور ایوان میں 10 آرڈنینس پیش کیے گئے.

(جاری ہے)

سینیٹ میں اہم قانون سازی چھبیسویں آئینی ترمیم کی تھی، چھبیسیویں ائینی ترمیم کے موقع پر چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر اجلاس کی صدارت سے معذرت کر لی تھی، چھبیسویں آئینی ترمیم کے موقع پر طویل اجلاس کی صدارت ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کی . اس پارلیمانی سال بھی ایوان مچھلی منڈی بنا رہا، سینیٹ میں اپوزیشن کا مسلسل احتجاج جاری رہا، اس دوران مدارس رجسٹریشن بل 2024 منظور کیا گیا، نیشنل فرانزک ایجنسی 2024، دی لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی بل 2024 بھی لایا گیا، اسلام آباد ہائی کورٹ ترمیمی بل 2024 منظور ہوا سینیٹ کے موجودہ حکومت کے پارلیمانی سال میں مجموعی طور پر 47 بل منظور کیے گئے، آرمی ترمیمی بل 2024 کی منظوری دی گئی، پاکستان ایئر فورس ترمیمی بل 2024، پاکستان نیوی ترمیمی بل 2024 بھی لائے گئے، سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد کا ترمیمی بل 2024 بھی منظور کیا گیا، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل 2024، فیکٹریز ترمیمی بل 2024 کی منظوری دی گئی، دی گارڈین اینڈ وارڈ ترمیمی بل 2024 اور پرائیویٹ ممبرز کے متعدد بلز منظور کیے گئے.

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے پی ٹی آئی کے 3 اراکین عون عباس پبی، فلک ناز چترالی اور ڈاکٹر ہمایون مہمند کی رکنیت معطل کی، رکنیت کی معطلی صرف ایک سیشن کے لیے کی گئی، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے دو مرتبہ پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے، اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر پر عمل درآمد تاحال نہیں کرایا جا سکا.

غیر قانونی شکار کے کیس میں گرفتار پی ٹی آئی کے سینیٹر عون عباس کے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے بعد انھیں ایوان میں پیش کیا گیا، سینیٹ میں ابھی تک خیبرپختونخواہ کی نمائندگی نہیں ہے، حکومت کہتی ہے اس کی ذمہ دار پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت ہے، اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے سینیٹر دنیش کمار اور دیگر بھی ایوان میں انتہائی متحرک نظر آئے.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پارلیمانی سال چیئرمین سینیٹ سینیٹ میں پی ٹی آئی منظور کی

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل (Crude Oil)کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتیں نمایاں اضافے کی جانب بڑھتی رہیں۔ بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 100.12 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ اماراتی مربن آئل (Murban Crude) 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔

مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔

مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ

ادھر قازقستان (Kazakhstan) کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد ملک کی ایک اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (Caspian Pipeline Consortium – CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل کی وصولی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی سطح پر یومیہ خام تیل کی تقریباً دو فیصد سپلائی سنبھالتی ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار بھی نصف سے کم کر دی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور قازقستان سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 100 روپے کا موبائل لوڈ کروانے پر اصل بیلنس کتنا ملتا ہے؟ ٹیکس کی مکمل تفصیل سامنے آگئی
  • سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم منظور
  • بلوچستان میں بارشوں سے دو ماہ میں آٹھ افراد جاں بحق ، 17 گھر مکمل تباہ
  • سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن