ویب ڈیسک — امریکہ نے اپنے شہریوں کے لیے ٹریول ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے سفر پر نظرِثانی کریں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے جمعے کو جاری کی گئی ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی اور ممکنہ تصادم کے امکانات کی وجہ سے پاکستان کے سفر پر نظرِثانی کریں کیوں کہ کچھ علاقوں میں خطرہ بڑھ گیا ہے۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کی وجہ سے صوبۂ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کا سفر نہ کریں۔ اس کے علاوہ دہشت گردی اور مسلح تصادم کے خدشے کے پیشِ نظر پاکستان بھارت کی سرحد اور لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں میں بھی سفر سے گریز کا مشورہ دیا گیا ہے۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے بعض علاقوں میں خطرہ کافی بڑھ گیا ہے۔




ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں حالیہ عرصے میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دہشت گرد سیاحتی مقامات، اسکولز، اسپتالوں، عبادت گاہوں سمیت دیگر مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے یہ ٹریول ایڈوائزری ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب 2025 کے لیے جاری ہونے والے گلوبل ٹیررازم انڈیکس (جی ٹی آئی) میں 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق دہشت گردی کے چیلنجز کے اعتبار سے 163 ممالک کی درجہ بندی میں پاکستان چوتھے سے دوسرے نمبر پر آگیا ہے۔

گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے مطابق پاکستان میں 2024 کے دوران دہشت گردی کے مجموعی طور 1099 حملے ہوئے جن میں 1081 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں پاکستان میں دہشت گردی کے حملوں میں 45 فی صد اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں 2023 کے مقابلےمیں دگنا اضافہ ہوا ہے۔

منگل کو خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے فوجی کمپاؤنڈ میں ہونے والے دو خود کش حملوں میں پانچ فوجیوں سمیت 18 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ٹریول ایڈوائزری کے مطابق حکومت پاکستان نے پاکستان میں کام کرنے والے امریکی حکومت کے اہلکاروں کے سفر پر پابندی عائد کر دی ہے۔ لہٰذا امریکی اہلکاروں کی اپنے شہریوں کی معاونت کے لیے خیبرپختونخوا، بلوچستان اور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر تک رسائی محدود ہے۔

سیکیورٹی خطرات کی وجہ سے لاہور، اسلام آباد یا کراچی سے باہر سفر کرنے کے لیے امریکی حکومت کے اہلکاروں کو خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے۔




ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی امریکی شہری پاکستان کے سفر کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے ہماری ویب سائٹ وزٹ کرنی چاہیے جو ہائی رسک ایریاز کی نشان دہی کرتی ہے۔

پاکستان کا سفر کرنے والے امریکی شہریوں کو کسی بھی بریکنگ نیوز کے لیے پاکستان کے مقامی میڈیا پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ جب کہ اپنے سفر کے اوقات اور ٹریول روٹ کو بھی ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے۔

ایڈوائزری میں امریکی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں پبلک مقامات، عبادت گاہوں، سرکاری اور فوجی املاک سے دُور رہیں۔ جب کہ جلسے اور ریلیوں کے مقامات سے بھی دُور رہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کے سفر دہشت گردی کے پاکستان میں کے سفر پر کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سی پیک اتھارٹی کی بلٹ پروف گاڑی خریدنے کی منظوری
  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار