پلاسٹک ذرات گندم، چاول، مکئی کے پودے پھلنے پھولنے نہیں دیتے
اشاعت کی تاریخ: 12th, March 2025 GMT
لاہور:
چین کی نانجنگ یونیورسٹی کے پروفیسر ہوان زونگ کی رہنمائی میں انجام پائی دو سالہ تحقیق کا دل شکن نتیجہ سامنے آیا ہے جس کے مطابق پلاسٹک ذرات گندم ، چاول ، مکئی وغیرہ کے پودوں میں ضیائی تالیف (photosynthesis) کا عمل روکتے اور ان تک مٹی سے غذائی عناصر نہیں پہنچنے دیتے جس سے پودا مر جاتا ہے۔
اس خرابی سے ان فصلوں کی پیداوار میں عالمی سطح پر 4 تا 14 فیصد کمی آ چکی ہے اور ابھی مزید کمی آئے گی کیونکہ چین، بھارت اور پاکستان کے کھیتوں میں انسانی سرگرمیوں سے پلاسٹک ذرات کی مقدار میں اضافہ جاری ہے۔
تینوں ملکوں کے لیے بْری خبر ہے کہ ان کی آبادی بڑھ رہی جبکہ زرعی پیداوار مختلف وجوہ کی بنا پر گھٹ رہی ہے، لہذا پلاسٹک کا خاتمہ ضروری ہو چکا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو بھوک کے خوفناک عفریت سے بچایا جا سکے۔
.ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جارحیت گیدڑ بھبکی‘ بھارت کبھی پانی بند نہیں کرسکتا،شاہد خاقان
کراچی (قمر خان) سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے آبی جارحیت گیدڑ بھبکی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آخر مودی کو بھی تو سیاست میں زندہ رہنا ہے۔ نوائے وقت سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا پانی ایک حساس مسئلہ ہے اور سندھ طاس معاہدہ بھارت کی بقا کے لئے بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا پاکستان کیلئے‘ بھارت کبھی بھی دریائے سندھ کا پانی بند کرنے جیسا انتہائی اقدام نہیں کرسکتا۔ قبل ازیں اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل مفتاح اسمٰعیل کی رہائش گاہ پر سینئر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کینال‘ کارپوریٹ فارمنگ و دیگر موضوعات پر ہر کوئی بات کر رہا مگر کسانوں کی بات عوام پاکستان پارٹی کے علاوہ کوئی نہیں کررہا جو گندم اگاکر بھی پریشان ہیں کہ اب ان سے گندم لینے والا کوئی نہیں حالانکہ ملک میں گندم کی فصل اب بھی ملکی ضروریات کے لئے ناکافی ہے اور دسمبر جنوری میں ایک بار پھر ہم باہر سے مہنگے داموں گندم امپورٹ کر رہے ہوں گے مگر ہم اپنے کسانوں کو ریلیف دینے کیلئے کسی طور تیار نہیں جن کی فصل کی قیمت 4 ہزار سے کم ہوکر 21یا 22 سو روپے پر پہنچا دی گئی جبکہ لاگت بڑھ چکی ہے کیونکہ صرف کھاد کی قیمت میں دوگنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت عوام کا کوئی بھی نہیں سوچتا‘ سب کو محض یہ فکر لاحق رہتی ہے وہ کیسے اقتدار میں آسکتا ہے یا اقتدار میں ہے تو کیسے اسے طول دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا حکومتیں لانے اور گرانے کا سلسلہ بند کرکے عوام کی حاکمیت اور اس کی اہمیت تسلیم کرنا ہو گی‘ سب کو آئین اور قانون کے طابع رہ کر کام کرنا ہوگا‘ کسی ادارہ کو آئین و قانون سے بالاتر رکھنے کا عمل اب ترک کرنا ہوگا۔