حکومت فوری طور پر نجی شعبے کو گندم امپورٹ کی اجازت دے
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
لاہور: ملک بھر کی فلور ملز نے وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ نجی شعبے کو فوری طور پر گندم درآمد کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ ممکنہ آٹے کے بحران سے بچا جا سکے۔
لاہور میں چاروں صوبوں کی فلور ملز ایسوسی ایشنز کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں موجودہ گندم اور آٹے کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ملک بھر کی دو ہزار سے زائد فلور ملز کے نمائندے شریک ہوئے۔
پنجاب پر تنقید اور بین الصوبائی ترسیل کی بندش پر تشویش
خیبر پختونخوا فلور ملز ایسوسی ایشن کے رہنما نعیم بٹ نے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:
پنجاب کی جانب سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی ترسیل پر پابندی آئین کے خلاف ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر نجی شعبے کو گندم درآمد کرنے کی اجازت دے۔”
سندھ کے مؤقف کی حمایت
سندھ فلور ملز ایسوسی ایشن کے رہنما عامر عبداللہ نے کہا کہ 2024 میں گندم کی درآمد کا فیصلہ بالکل درست تھا۔ اگر گندم درآمد نہ کی جاتی تو کراچی کی فلور ملز کے پاس مطلوبہ گندم موجود نہ ہوتی۔
اسی تنظیم سے وابستہ حاجی محمد یوسف نے بھی خبردار کیا کہ ملک میں اس وقت گندم کا واضح شارٹ فال ہے اور بحران سے بچنے کے لیے گندم کی امپورٹ ناگزیر ہو چکی ہے۔
وفاقی اور صوبائی اداروں کے اعداد و شمار پر سوالات
فلور ملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین بدرالدین کاکڑ نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے دیگر صوبوں کو گندم اور آٹے کی ترسیل پر پابندی سے غذائی بحران جنم لے رہا ہے۔ اگر فوری طور پر گندم درآمد نہ کی گئی تو ملک آئندہ چند ماہ میں ایک اور آٹا بحران کا سامنا کر سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ وفاقی و صوبائی اداروں کی جانب سے گندم کی کاشت اور پیداوار سے متعلق جاری کردہ اعداد و شمار درست نہیں۔
پنجاب فلور ملز کا محتاط موقف
پنجاب فلور ملز ایسوسی ایشن کے رہنما عاصم رضا نے کہا کہ وہ گندم کی امپورٹ کے حامی ہیں، تاہم انہوں نے تجویز دی کہ:
پنجاب حکومت کو چاہیے کہ وہ پاسکو (PASSCO) سے گندم خریدنے پر بھی غور کرے۔ گندم کا کوئی متبادل نہیں ہے۔”
انہوں نے شکایت کی کہ پنجاب میں محکمہ خوراک کی جانب سے چھاپوں کے باعث مارکیٹ میں گندم کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جو بحران کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔