دہشتگرد ڈائیلاگ کیلئے تیار نہیں، ابھی تک ریاست نے لڑنا شروع نہیں کیا، وزیراعلی بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 12th, March 2025 GMT
دہشتگرد ڈائیلاگ کیلئے تیار نہیں، ابھی تک ریاست نے لڑنا شروع نہیں کیا، وزیراعلی بلوچستان WhatsAppFacebookTwitter 0 12 March, 2025 سب نیوز
کوئٹہ (سب نیوز)بلوچستان کے وزیراعلی سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست، حکومت اب بھی صبر سے کام لے رہی ہے، حکومت سب کچھ کرنے کو تیار ہے۔
بلوچستان اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے سرفراز بگٹی کا کہنا تھاکہ معصوم نہتے مسافروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، ان کیمرہ بریفنگ میں کئی بار بتا چکاہوں وہ لوگ ڈائیلاگ کیلئے تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ لوگ معصوم اور نہتے لوگوں کا خون بہا رہے ہیں، کب تک پاکستان توڑنے کی باتیں برداشت کریں گے، ریاست، حکومت اب بھی صبر سے کام لے رہی ہے، حکومت سب کچھ کرنے کو تیار ہے۔
وزیر اعلی بلوچستان کا کہنا تھاکہ حالات کے حوالے سے کنفیوژن دور کرنا پڑے گی، ایک تو معصوموں کا خون بہا رہے ہیں اور دوسرے ٹی وی پر باتیں کر رہے ہیں، ابھی تک ریاست نے لڑنا شروع نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پورے پاکستان کو دہشت گردی کے معاملے پر کنفیوژ کیا ہے، وہ آپ کو مار رہے ہیں، آپ جرگہ کرنے کی بات کر رہے ہیں جو ریاست کو توڑنے کی بات کرے گا، بندوق اٹھائے گا ریاست اس کا قلع قمع کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کون قتل و غارت کررہا ہے؟ ہم ان کا نام لینے سے کیوں گھبراتے ہیں؟ عام بلوچ کو تو گلے لگایا جائے گا لیکن دہشت گردوں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچ تاریخ دلیری اور مہمان نوازی سے بھری پڑی ہے، یہ کون سی تاریخ ہے کہ آپ نہتے لوگوں پر حملہ کرتے ہیں، ٹرین پر حملہ کرتے ہیں ، یرغمال بناتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ناکہ بندے کے بدلے ناکہ بندی، بحیرہ احمر میں بدلتا توازن
اسلام ٹائمز: خطے میں رونما ہونے والی حالیہ تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کی جنگ اب محض ایک اندرونی بحران یا حتی صنعاء اور ریاض کے درمیان ٹکراو کی حد تک باقی نہیں رہی بلکہ مغربی ایشیا میں جاری جیوپولیٹیکل مقابلہ بازی کا حصہ بن چکی ہے۔ اس تبدیلی کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہو کر سامنے آتی ہے جب ہم اس کا علاقائی طاقت کے دیگر پہلووں سے موازنہ کرتے ہیں۔ اکثر ماہرین کی نظر میں جس قدر تجارت اور انرجی کی شاہرگوں پر علاقائی کھلاڑیوں کی اثرانداز ہونے کی طاقت میں اضافہ ہو گا اسی قدر ہر قسم کے بیرونی حملے یا دباو کی قیمت بھی بڑھتی چلی جائے گی۔ لہذا یمن کا اقدام علاقائی ڈیٹرنس کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو جانے کی علامت ہے۔ ایسا مرحلہ جس میں محض فضائی برتری یا فوجی طاقت فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرے گی بلکہ آبی راستوں کی سیکورٹی، جہازرانی اور انرجی کی تجارت پر کنٹرول فیصلہ کن قرار پائے گی۔ تحریر: فاطمہ محمدی
یمن گذشتہ تقریباً 12 سال سے سمندری، زمینی اور فضائی محاصرے کا شکار ہے جسے سعودی عرب کی سربراہی میں نام نہاد عرب اتحاد نے اس پر مسلط کر رکھا ہے۔ بین الاقوامی ادارے اس بات پر تاکید کر چکے ہیں کہ یہ محاصرہ دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحران کا باعث بن رہا ہے۔ ان بارہ سالوں کے دوران سعودی عرب نے فضائی برتری کی بدولت یمن کی بندرگاہوں پر بھی کڑی نظر رکھی ہوئی ہے اور ہر قسم کی غذائی اشیاء اور ایندھن کی ترسیل روک رکھی ہے۔ اس کا مقصد یمن کی اقتصادی اور فوجی طاقت کمزور کرنا ہے اور اس پر اپنے ناجائز مطالبات ماننے کے لیے دباو ڈالنا ہے۔ لیکن اب یوں دکھائی دے رہا ہے کہ یہ مساوات تبدیل ہونے جا رہی ہے۔ یمن کی مسلح افواج نے سرکاری طور پر اس ظالمانہ محاصرے کو توڑنے کے لیے عملی اقدامات شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن اب دفاعی حکمت عملی سے نکل کر جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنے جا رہا ہے۔ اس مرحلے کے اثرات بہت وسیع ہوں گے اور صرف یمن اور سعودی عرب کے درمیان جنگ کے دائرے تک محدود نہیں رہیں گے۔ اسی تناظر میں یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحیی سریع نے "محاصرے کے بدلے محاصرہ" پر مبنی مساوات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے گذشتہ بارہ سال سے یمن کے خلاف محاصرہ کر رکھا ہے اور ہمارے ملک کے ذخائر کی لوٹ مار میں مصروف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب یہ صورتحال قابل برداشت نہیں ہے اور آج کے بعد سعودی عرب کے خلاف سمندری محاصرہ شروع کر دیا جائے گا۔ یحیی سریع نے خبردار کیا کہ ریاض کی جانب سے تناو میں شدت لانے کی صورت میں یمن بھی فیصلہ کن اور منہ توڑ جواب دے گا۔
یکطرفہ ڈیٹرنس کا دور ختم
یمن کی مسلح افواج کے اس بیانیے سے جو چیز سب سے زیادہ واضح ہے وہ ڈیٹرنس پر مبنی اصولوں میں تبدیلی ہے۔ جنگ کے ابتدائی سالوں میں سعودی عرب برتر فوجی اور سمندری پوزیشن کا حامل تھا جس کی بدولت وہ سمجھتا تھا کہ بھاری قیمت چکائے بغیر ہی صرف اقتصادی محاصرے اور فضائی حملوں کے ذریعے جنگ جیتی جا سکتی ہے۔ لیکن حالیہ چند سالوں کے تجربات سے واضح ہوتا ہے کہ صنعاء نے دھیرے دھیرے میزائل طاقت، ڈرون طیاروں اور بحریہ جیسے شعبوں میں ترقی کی ہے اور اب اس نے سعودی عرب کے اندر والے علاقوں سے لے کر بحیرہ احمر تک فوجی اقدامات انجام دینا شروع کر دیے ہیں۔ درحقیقت یمن کی نئی حکمت عملی اس اصول پر استوار ہے کہ اگر یمنی عوام کی معیشت اور زندگی محاصرے کا شکار ہے تو سعودی عرب کی معیشت اور انرجی کی سلامتی بھی محفوظ نہیں رہنی چاہیے۔
بحیرہ احمر کی جیوپولیٹیکل اہمیت
بحیرہ احمر محض ایک آبی راستہ ہی نہیں بلکہ عالمی تجارت کہ ایک اہم ترین شاہرگ بھی ہے۔ ایشیا اور یورپ میں انجام پانے والی تجارت کا بڑا حصہ بحیرہ احمر سے گزرتا ہے جس میں عرب ممالک کی انرجی کی مصنوعات اور تیل بردار جہازوں کی آمدورفت بھی شامل ہے۔ بحیرہ احمر میں ہر قسم کا خطرہ بلافاصلہ سمندری ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جانے، بحری جہازوں کی انشورنس فیس میں اضافے، اور انرجی کی عالمی تجارت متاثر ہونے کا باعث بنے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر یمن اپنی دھمکیوں پر عملدرآمد شروع کر دیتا ہے تو صرف سعودی عرب کو نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ بحیرہ احمر کی سلامتی کی تمام مساواتیں ہل کر رہ جائیں گی۔ اسی طرح بحری جہازوں کی آمدورفت مکمل طور پر رک جائے گی اور درپیش خطرات کے باعث انشورنس فیس میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔
اقتصاد، نیا میدان جنگ
اس تبدیلی کی اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ اب میدان جنگ فوجی جغرافیہ سے ہٹ کر معیشت اور اقتصاد کی سمت منتقل ہو رہا ہے۔ جدید جنگوں کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگیں اس وقت ڈیٹرنس کے مرحلے پر پہنچتی ہیں جب مدمقابل محسوس کرتا ہے کہ جنگ کے اخراجات حاصل ہونے والے مفادات سے کہیں زیادہ ہو جائیں گے۔ سعودی عرب گذشتہ بارہ سالوں کے دوران یمن جنگ پر اربوں ڈالر کے اخراجات کر چکا ہے لیکن ساتھ ہی اس کی کوشش رہی ہے کہ اپنی تیل کی برآمدات، بندرگاہوں اور تجارتی راستوں کو محفوظ رکھے۔ لیکن اب اگر یمن کی مسلح افواج سعودی عرب کی تیل کی برآمدات، بندرگاہوں اور تجارتی راستوں کو ہی نشانہ بنانا شروع کر دیتی ہیں تو یہ ریاض کے لیے قابل برداشت نہیں ہو گا اور وہ اس جنگ کو ختم کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔
خطے کی نئی مساواتیں
خطے میں رونما ہونے والی حالیہ تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کی جنگ اب محض ایک اندرونی بحران یا حتی صنعاء اور ریاض کے درمیان ٹکراو کی حد تک باقی نہیں رہی بلکہ مغربی ایشیا میں جاری جیوپولیٹیکل مقابلہ بازی کا حصہ بن چکی ہے۔ اس تبدیلی کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہو کر سامنے آتی ہے جب ہم اس کا علاقائی طاقت کے دیگر پہلووں سے موازنہ کرتے ہیں۔ اکثر ماہرین کی نظر میں جس قدر تجارت اور انرجی کی شاہرگوں پر علاقائی کھلاڑیوں کی اثرانداز ہونے کی طاقت میں اضافہ ہو گا اسی قدر ہر قسم کے بیرونی حملے یا دباو کی قیمت بھی بڑھتی چلی جائے گی۔ لہذا یمن کا اقدام علاقائی ڈیٹرنس کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو جانے کی علامت ہے۔ ایسا مرحلہ جس میں محض فضائی برتری یا فوجی طاقت فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرے گی بلکہ آبی راستوں کی سیکورٹی، جہازرانی اور انرجی کی تجارت پر کنٹرول فیصلہ کن قرار پائے گی۔