جلیبیاں بیچنے پر مجبور فٹبالر کو وزیراعظم نے امدادی چیک دیدیا، گنڈاپور کا بطور کوچ بھرتی کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) جلیبیاں بیچنے والے ہنگو کے فٹبالر محمد ریاض کی اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور پشاور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے ساتھ خصوصی ملاقاتیں ہوئیں۔وزیراعظم نے محمد ریاض کو 25 لاکھ روپے کا امدادی چیک دیا جب کہ وزیراعلیٰ کے پی نے 10 لاکھ روپے کا چیک دیا۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے محمد ریاض کو کوچ بھرتی کرنے کا آرڈر بھی جاری کیا۔
انہوں نے کہا کہ محمد ریاض بچوں کوٹریننگ دیں گے، ریاض جیسےلوگ ہمارا سرمایہ ہیں، اس کو ضائع نہیں کرنا۔
شوہر کی گرفتاری کے بعد اداکارہ نادیہ حسین آن لائن فراڈ کا نشانہ بن گئیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: محمد ریاض
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔