ٹرمپ کو امریکی نائب صدر کے موزے پسند آگئے، میٹنگ کے دوران دلچسپ تبصرہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT
ٹرمپ کو امریکی نائب صدر کے موزے پسند آگئے، میٹنگ کے دوران دلچسپ تبصرہ WhatsAppFacebookTwitter 0 13 March, 2025 سب نیوز
واشنگٹن(سب نیوز )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی نائب صدر جی ڈی وینس کے موزے پسند آگئے جس کے بعد وہ تبصرہ کیے بغیر نہ رہ سکے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز ٹرمپ کی آئرش وزیر اعظم مائیکل مارٹن کے ساتھ وائٹ ہاس میں سینٹ پیٹرک ڈے کے ناشتے پر ملاقات ہوئی جس میں جے ڈی وینس بھی موجود تھے۔ اسی دوران نائب صدر کے موزوں نے ٹرمپ کی توجہ اپنی جانب کھینچی جس پر وینس اور آئرش وزیر اعظم بھی ہنس پڑے۔
ٹرمپ کا جے ڈی وینس کے موزے دیکھ کر کہنا تھا کہ میں ان موزوں کی وجہ سے دھیان نہیں دے پارہا۔ امریکی صدر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کے موزے بہت پسند آئے۔ میرے ان جرابوں کا کیا حال ہے؟امریکی صدر نے مزید کہا کہ میں توجہ مرکوز رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں، تاہم میں جے ڈی وینس کے جرابوں سے بہت متاثر ہوا ہوں۔
ٹرمپ کی جانب سے امریکی نائب صدر کے موزوں پر تبصرہ کرنے کے بعد اوول آفس میٹنگ میں بیٹھے لوگ بھی ہنسنے پر مجبور ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس نے وضاحت کی کہ انہوں نے موزے اپنے آئرش مہمان اور سینٹ پیٹرک ڈے کو خراج تحسین کے طور پر پہنے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امریکی نائب صدر نائب صدر کے کے موزے
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔