کراچی(شوبز ڈیسک)”بیٹا جی!!!! ہاں، میں سوشل میڈیا کی عورت ہوں!!!! اور میں یقیناً وہ غلط شخص ہوں جس سے الجھنے کی غلطی مت کرو
پاکستانی ماڈل اور اداکارہ نادیہ حسین ایک سنگین آن لائن دھوکہ دہی کا شکار ہوئیں، جب ایک جعلساز نے ایف آئی اے افسر بن کر ان سے تین کروڑ روپے رشوت طلب کی۔ نادیہ حسین نے سوشل میڈیا پر اپنی گفتگو کا خلاصہ شیئر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ کس طرح ایک شخص نے پہلے ان کے بیٹے کو فون کیا، پھر بیٹے سے نمبر لے کر خود انہیں کال کی اور شوہر کی ضمانت کے بدلے فوری رقم کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔
“میں بےحد حیران ہوں!”
اداکارہ نے کہا، “مجھے واقعی ان دھوکے بازوں کی ہمت پر حیرت ہے جو جانتے ہیں کہ کسی مشکل میں گھرے شخص کی جذباتی حالت نازک ہوتی ہے، اور اسی کمزوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ شروع میں، میں نے تھوڑی دیر کے لیے سوچا کہ شاید یہ شخص اصل میں ایف آئی اے سے ہے، لیکن میں کوئی ناتجربہ کار یا جذبات میں آ کر فوراً کسی دھوکے کا شکار ہونے والی نہیں ہوں!”
“دھوکے بازی کی حد دیکھیں!”
نادیہ نے بتایا کہ فون کرنے والے نے پہلے اپنی پروفائل تصویر میں ایک سوٹ پہنے شخص کی تصویر لگائی، لیکن دورانِ گفتگو پولیس یونیفارم میں موجود ایک شخص کی تصویر لگا دی تاکہ زیادہ مستند لگے۔ اس کے بعد اس نے مطالبہ کیا کہ پہلے 50 لاکھ روپے 15 منٹ میں نقد ادا کیے جائیں، اور باقی رقم اگلے دن دی جائے!

View this post on Instagram

A post shared by Nadia Hussain Khan (@nadiahussain_khan)


“پھر اس نے میری ساس کو فون کر دیا!”
جب نادیہ حسین نے دھوکے باز کی بات نہ مانی تو اس نے ان کی ساس کو فون کر کے شکایت کی کہ آپ کی بہو بہت بدتمیز اور بدزبان ہے، اور وہ چاہتی ہے کہ آپ کا بیٹا جیل چلا جائے!” اس پر اداکارہ نے طنزیہ انداز میں کہا، “اوہ! بیچارے ناؤمان بھائی! میری شکایت لے کر امی جی کے پاس چلے گئے!”
“قانونی ایکشن لیا جا چکا ہے!”
اداکارہ کے مطابق، یہ فراڈ ایف آئی اے کو رپورٹ کر دیا گیا ہے، اور وہ جلد ہی نادرا حکام سے بھی بات کریں گی تاکہ معلوم ہو کہ ان کے خاندان کے نمبر اتنی آسانی سے جعلسازوں کے ہاتھ کیسے پہنچے؟ انہوں نے اپنے تمام اہلِ خانہ کو ہدایت دی کہ کسی بھی نامعلوم نمبر سے ایسی کال آئے تو فوراً بلاک کر دیں۔
“دھوکے باز نے حلفیہ قرآن کی قسم کھائی!”
اداکارہ نے مزید کہا، “جب ناؤمان بھائی (جعلساز) حلفیہ قرآن کی قسم کھا کر کہیں گے کہ وہ واقعی ایف آئی اے کے ڈائریکٹر ہیں، تب میں بھی حلفیہ وعدہ کر کے ان کی بات اپنے تک رکھوں گی، ورنہ… وہی کھائیں جو میں کہہ رہی ہوں!”
نادیہ حسین کے شوہر کی گرفتاری کا پسِ منظر
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اداکارہ کے شوہر عاطف محمد خان کو 54 کروڑ روپے کی خرد برد کے الزام میں ایف آئی اے نے حراست میں لے لیا۔ وہ ایک نجی بینک میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے اور ان پر مالی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات ہیں۔
ایف آئی اے کی وضاحت
ایف آئی اے حکام نے اس حوالے سے واضح کیا کہ وہ اداکارہ سے رشوت مانگنے والے جعلساز کی نشاندہی کر رہے ہیں اور اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
مزیدپڑھیں:اسٹار اداکارہ نے بالی ووڈ کے منفی پہلو کا پردہ فاش کردیا

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: نادیہ حسین اداکارہ نے ایف آئی اے

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان