پاکستان کی ترقی و خوشحالی امن سے جڑی ہوئی ہے، شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT
کوئٹہ میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی امن سے جڑی ہوئی ہے، اگر امن نہیں ہوگا تو کوئی ترقی اور خوشحالی نہیں ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج پوری قوم اشکبار ہے کہ تین دن پہلے بولان میں دہشت گردوں نے ایک ٹرین جس میں 400 سے زائد پاکستانی سفر کررہے تھے، ان کو یرغمال بنایا۔ انہوں نے کہا کہ نہتے پاکستانیوں کو شہید کیا اور ان کو رمضان کے تقدس کا احساس نہیں تھا۔ بچوں، بزرگوں اور خواتین کا احساس نہیں تھا۔ انتہائی ظالمانہ طریقے سے انہوں نے ٹرین سے نکالا اور میدان میں بیٹھایا اور ایسا واقعہ شاید پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی رونماء نہیں ہوا۔ کوئٹہ دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک تو پاکستانیوں کی جانوں کو بچانا تھا اور دہشتگردوں کا بھی خاتمہ کرنا تھا، وہاں پر خودکش بمباروں نے اپنے گھیرے میں رکھا ہوا تھا، ہم سب کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ جنرل عاصم منیر کی لیڈرشپ میں اور کور کمانڈر کوئٹہ کی مکمل سرپرستی میں اور درجہ بدرجہ جو اس کام کے لئے یونٹس مامور تھے۔ آئی ایس آئی، ایم آئی، ایم او ڈائریکٹوریٹ اور جو ضرار کمپنی ہے، جو ایسے ہی لوگوں کو جہنم رسید کرنے کے لئے تیار کی گئی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے جو مشترکہ اسکیم بنائی، جس کے نتیجے میں 339 پاکستانیوں کو چھڑوایا گیا اور 33 دہشتگردوں کو جہنم رسید کیا گیا۔ ضرار یونٹ جو دہشت گردی کے خلاف بنایا گیا ہے۔ اس کے افسروں اور جوانوں سے میں نے خطاب کیا اور ان سب کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اپنی طرف سے، حکومت پاکستان کی طرف سے اور 24 کروڑ عوام کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کی جرات، جواں مردی اور ان کی دلیری کی تحسین کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ہم نے ان بے رحم درندوں سے ان معصوم پاکستانیوں کی جان چھڑالی، مگر پاکستان کسی ایسے دوسرے حادثے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس کے لئے ہمیں سب کو مل کر اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ بلوچستان کی حکومت، اکابرین، بلوچستان کے عوام کو اور صوبہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور وفاقی حکومت کو مل کر اس میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی حکومت کی کارکردگی کی مکمل طور پر تحسین کروں گا۔ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی جب تک باقی صوبوں کے ہم پلہ نہیں ہوگی، میں بلاخوف تردید یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ پاکستان کی ترقی نہیں ہوگی، پاکستان کی خوشحالی نہیں ہوگی۔ اسی طریقے سے جب تک کہ صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی مکمل طور پر ختم نہیں ہوگی پاکستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2018 میں دہشتگردی کا خاتمہ ہو گیا تھا اور 80 ہزار پاکستانیوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا۔ معیشت کو 30 ارب ڈالر کا تباہ کن نقصان پہنچا اور نواز شریف اس وقت وزیراعظم تھے۔ افواج پاکستان اور عام شہریوں کی قربانیوں سے یہ امن قائم ہوا۔ دوبارہ اس ناسور نے سر کیوں اٹھایا؟ اس کا سر کچلا جا چکا تھا، یہ وہ سوال ہے جو کئی بار اٹھا ہے، کسی پوائنٹ اسکورنگ میں جائے بغیر، اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں کہ جو طالبان سے اپنا دل کا رشتہ جوڑتے اور بتانے میں تھکتے نہیں، انہوں نے ہزاروں طالبان کو دوبارہ چھوڑا۔ یہاں تک کہ گھناؤنے کرداروں کو بھی چھوڑا گیا، اس وقت افواج پاکستان کے جوان اور افسر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دن رات قربانیاں دے رہے ہیں، اور وہ افسر جوان اپنے بچوں کو یتیم کرکے لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے بڑا پاکستان کے خلاف کوئی اور جرم نہیں ہوسکتا۔ جنہوں نے طالبان کو پاکستان میں دعوت دی اور یہ کہا کہ انہوں نے غلامی کی زنجیریں کاٹ دی ہیں اور ہم نے 40 لاکھ افغانیوں کو یہاں پر رکھا، ان کا خیال رکھا، وہ آج کروڑوں، اربوں روپے کی جائیدادوں کے مالک ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ اس کے بعد اندر سے ایسے دشمن نما اٹھیں اور پاکستان کے خلاف زہر اگلیں، پاکستان کی فوج کے خلاف زہر اگلیں، یہ تو وطن کی حفاظت کے لیے دن رات مامور ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، اس کے ساتھ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی جڑی ہوئی ہے، اگر امن نہیں ہوگا تو کوئی ترقی اور خوشحالی نہیں ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شہباز شریف نے کہا کہ ترقی اور خوشحالی ان کا کہنا تھا کہ کا کہنا تھا کہ ا پاکستان کی ترقی نہیں ہوگی انہوں نے کے خلاف
پڑھیں:
وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس ) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چین کی معروف کمپنی فیمسن کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں غذائی تحفظ، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور فوڈ اسٹوریج کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے چینی وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس تعاون سے یہ دوستی مزید مستحکم ہوگی۔شہباز شریف نے فیمسن کی جانب سے پاکستان میں اجناس کے اسٹوریج مراکز کو جدید اسٹیٹ آف دی آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف ہوگی، غذائی تحفظ میں بہتری آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ان منصوبوں میں پاکستان کی افرادی قوت کی ہنرمندی اور پیشہ ورانہ تربیت کو بھی شامل کیا جائے تاکہ مقامی افرادی قوت جدید زرعی ٹیکنالوجی سے مستفید ہو سکے۔فیمسن کے چیف ایگزیکٹو جیک چین نے پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کے حالیہ دور چین کے دوران ہونے والی ملاقات کے نتیجے میں وہ پاکستان آئے ہیں تاکہ غذائی تحفظ سے متعلق قابلِ عمل منصوبوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرپراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی اسلام آباد بار سے ہو گی:اعظم نذیر تارڑ اگلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم