گھریلو سولر پینل کا متبادل کیا اور کتنا کارآمد ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT
وقت کے ساتھ ساتھ صاف اور قابل تجدید توانائی کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ایسے میں ایک چھوٹی ونڈ ٹربائن قابل تجدید توانائی کے لیے گھریلو صارفین کا بہترین انتخاب ہوسکتی ہے۔
ڈچ اسٹارٹ اپ دی آرکیمیڈیز کی ایجاد کردہ LIAM F1 UWT انتہائی پرسکون ونڈ ٹربائن ہے جو شہری ماحول میں بغیر کسی رکاوٹ کے فٹ بیٹھتی ہے، یہ ونڈ ٹربائن عملی طور پر سولر پینلز کا بھی مقابلہ کرسکتی ہے،شور کرنے والی روایتی ٹربائنوں کے برعکس LIAM F1 UWT کا قطر صرف 1.
یہ بھی پڑھیں: رات کو بجلی پیدا کرنے والے سولر پینلز کا کامیاب تجربہ، مگر یہ کام کیسے کرتے ہیں؟
اس کا سرپل روٹر ڈیزائن اسے کسی بھی سمت سے ہوا کو پکڑنے کی اجازت دیتا ہے، یہ ٹربائن غیر متوقع موسم کے دوران بھی مؤثر رہتی ہے۔یہ 45 ڈیسیبل سے کم پر کام کرتا ہے، جو پرسکون بھی ہے اور زیادہ شور نہیں کرتی، یہ رہائشی علاقوں میں گھروں کی چھتوں پر لگائی جاسکتی ہے۔
موجودہ دنوں میں سولر پینل قابل تجدید توانائی کے لیے سب سے اوپر انتخاب بنے ہوئے ہیں، جو سورج کی روشنی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اس کے برعکس LIAM F1 UWT روشنی کے حالات سے قطع نظر، دن ہو یا رات بجلی پیدا کرسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ونڈ ٹربائنز کی وجہ سے وہیلز مررہی ہیں؟
یہ ٹربائن محل وقوع اور ہوا کے حالات کے لحاظ سے سالانہ 300 سے 2500 کلوواٹ کے درمیان بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے صارفین کو آسانی پیدا ہوگی۔سولر پینل کے برعکس دن ہو یا رات، بارش ہو یا دھوپ یہ ٹربائن بجلی پیدا کرتی رہے گی۔
آرکیمیڈیز نے مستقبل کے منصوبوں بشمول میرین ٹربائنز اور ہائبرڈ ونڈ سولر سسٹم کی طرف بھی اشارہ کیا ہے،یہ اختراعات توانائی کے ذرائع کو مزید متنوع بنا سکتی ہیں اور سرد، تاریک مہینوں میں توانائی کی ضرورت کو پورا کرسکتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
LIAM F1 UWT we news توانائی ڈچ آرکیمیڈیز گھریلو سولر پینل ونڈ ٹربائن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: توانائی گھریلو سولر پینل بجلی پیدا سولر پینل
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔