جویریہ سعود کے رمضان پروگرام میں انوکھا سوال، ٹریفک چالان سے بچنے کا وظیفہ مانگنے کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT
معروف اداکارہ اور ٹی وی میزبان جویریہ سعود کے رمضان پروگرام کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس میں ایک کالر نے ٹریفک چالان سے بچنے کے لیے وظیفہ پوچھا کراچی سے تعلق رکھنے والے اس کالر نے بتایا کہ وہ ملیر کے رہائشی ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر ٹریفک پولیس ان کا چالان کردیتی ہے ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہیں ان کے پاس گاڑی کے کاغذات اور ڈرائیونگ لائسنس بھی موجود ہوتا ہے اس کے باوجود پولیس اہلکار کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر جرمانہ کر دیتے ہیں جس سے وہ شدید پریشان ہیں پروگرام میں موجود مفتی نے نہ صرف کالر کی بات سنی بلکہ ٹریفک پولیس اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ موٹر سائیکل سواروں کا خصوصی خیال رکھیں کیونکہ سب سے زیادہ متاثر یہی طبقہ ہوتا ہے ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف پیٹرول کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو چکا ہے اور دوسری جانب ٹریفک پولیس کی جانب سے مسلسل چالان کیے جانے سے غریب عوام مزید مشکلات کا شکار ہورہی ہے انہوں نے پولیس حکام سے اپیل کی کہ زیادہ تر موٹر سائیکل سوار مزدور اور دیہاڑی دار طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ نرمی برتی جائے مفتی نے کالر کی درخواست پر چالان سے بچنے کے لیے ایک وظیفہ بھی بتایا اور مشورہ دیا کہ جب بھی ٹریفک پولیس نظر آئے اس مخصوص دعا کو پڑھنا شروع کر دیں تاکہ ان کا چالان نہ ہو جیسے ہی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر آئی صارفین نے دلچسپ تبصرے شروع کر دیے کچھ لوگوں نے اس واقعے کو تفریحی قرار دیا جبکہ کئی صارفین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایسے سوالات پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے کیے جاتے ہیں اور اکثر اوقات جعلی کالرز کے ذریعے ایسے معاملات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کئی لوگوں نے طنزیہ تبصرے بھی کیے اور کہا کہ اب ٹریفک قوانین پر عمل کرنے کے بجائے لوگ وظیفوں پر انحصار کرنا شروع کردیں گے کچھ صارفین نے مذاق میں لکھا کہ اب ٹریفک پولیس کو بھی کوئی وظیفہ بتانا چاہیے تاکہ وہ چالان کرنے کے بجائے عوام کو قانون کی پاسداری پر قائل کرسکیں یہ واقعہ ایک دلچسپ مگر سنجیدہ مسئلے کو اجاگر کرتا ہے جہاں شہری خود کو قانون کے دائرے میں رکھتے ہوئے بھی مشکلات کا شکار نظر آتے ہیں ٹریفک پولیس اور عوام کے درمیان بہتر روابط اور قانون کے یکساں نفاذ سے ہی ایسے مسائل کا مستقل حل نکالا جا سکتا ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ٹریفک پولیس کے لیے
پڑھیں:
باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔
اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب