Express News:
2026-06-03@04:48:58 GMT

لایموت۔ ایک شاہکار ناول

اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT

معروف شاعر ادیب ماہر اقبالیات اور سیرت نگار پروفیسر خیال آفاقی جس طرح اپنی شاعری میں اس اعتبار سے ایک منفرد مقام رکھتے ہیں کہ ان کے کلام پر علامہ اقبال کا طرز سایہ فگن ہے اور ایک وسیع معنویت اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ اسی طرح ان کی نثر بالخصوص ناول نگاری بھی عالمگیر احساس کی حامل نظر آتی ہے۔ زیر نظر ان کا نیا ناول ’’لایموت‘‘ بھی ان کی اس وسعت نظری اور عالمی سیاسی سماج مزاج کا مظہر ہے۔

بالخصوص دور حاضر میں مسلمانوں کے لیے دو جغرافیائی مسئلے فلسطین اورکشمیر سوہانِ روح بنے ہوئے ہیں جو یہود و ہنود کی جارحیت، استعماریت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا کھلا ثبوت ہیں۔ یہ مسائل مسلمانوں کے دلوں کو مضطرب کیے ہوئے ہیں اور اس بات پر نوحہ خواں ہیں کہ اس مجرمانہ فعل پر عالمی ضمیر خاموش اور انسانی حقوق کی علمبردار طاقتیں بے حس نظر آتی ہیں۔

تاہم آج کل اسلام کے خلاف بے بنیاد الزامات اور دہشت گردی کا ارتکاب جس دیدہ دلیری سے ہو رہا ہے، اس پر مسلمان دنگ ہیں افسوس کہ امن و آشتی کے پیامی مسلمانوں کو دہشت گرد اور مجاہدین حریت کو شدت پسند کہا جا رہا ہے۔

نہایت بے باک اور بے شرم مغربی طاقتوں کی دشمنی سے عالم اسلام اچھی طرح واقف ہو چکا ہے۔ اس پروپیگنڈے میں خصوصی طور پر تاریخی ملعون مطعون قوم یہود سب سے پیش پیش ہے جو ہر طرح کے حربے استعمال کرتی اور خود پر مسلمانوں کا خون حلال کیے ہوئے ہے۔

اس کا زندہ ثبوت اسرائیل کے وہ انسان کش بے رحمانہ فضائی حملے ہیں جو غزہ کے عام فلسطینی رہائشیوں کے متعدد علاقوں پر کیے گئے جن سے 50 ہزار سے زائد معصوم بچوں، بوڑھوں، خواتین اور مردوں کو خون میں نہلا دیا گیا۔

گوکہ مذکورہ ناول ’’لایموت‘‘ کا براہ راست ان واقعات سے تعلق نہیں ہے تاہم صیہونی ذہنیت کے خلاف یہ ایک ایف آئی آر کی حیثیت ضرور رکھتا ہے۔ ناول ایک ہوائی حادثے سے شروع ہوتا ہے جو کسی سمندر میں گر کر تباہ ہو جاتا ہے تاہم زندہ بچنے والوں میں ایک نوجوان مرد اور لڑکی ہے، لڑکی یہودی ہے مرد نوجوان مسلمان ہے، ان دونوں کا ملاپ ایک جزیرے میں ہوتا ہے جہاں وہ بڑی مشکل سے جان بچا کر پہنچتے ہیں۔

دنیا سے ان کا رابطہ کٹ کے رہ گیا ہے۔ یہودی لڑکی اسلام اور مسلمانوں سے سخت نفرت کرتی ہے۔ سو اس وقت وہ ایک مسلم نوجوان کو کیونکر اچھی نظر سے دیکھتی۔ وہ مسلم نوجوان سے بدک رہی ہے کہ یہ ضرور اسے جنسی طور پر ہراساں کرے گا مگر نوجوان اس مشکل کی گھڑی میں جہاں اپنی سلامتی کا خواہش مند ہے انسانی ہمدردی کے طور پر اس لڑکی سے متعلق بھی تحفظ کی خواہش رکھتا ہے اور ہر ممکن اس ویران جزیرے میں زندہ رہنے کی مشترکہ کوشش کرتا ہے جس کے حسن عمل سے اس یہودی لڑکی کی کسی حد تک بدگمانی دور ہو جاتی ہے تاہم اسلام اور عام مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے سے باز نہیں آتی۔

مسلم نوجوان دنیاوی تعلیم کی اعلیٰ ڈگری کا حامل ہے لیکن اپنی تاریخ اور دین سے کوئی زیادہ باخبر نہیں ہے پھر بھی جس قدر اس سے بن پڑتا ہے وہ اس یہودی لڑکی کی اسلام اور مسلمانوں سے متعلق بدگمانی کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے اور لگتا ہے کہ خدا بھی اس کی مدد کرتا ہے اور وہ اسے قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور جب امدادی ٹیم ان تک پہنچ جاتی ہے اور وہ معجزاتی طور پر زندہ بچ کر کسی یورپی شہر میں پہنچ جاتے ہیں جہاں ایک ہی اسپتال میں انھیں رکھا جاتا ہے۔

یہاں لڑکی کا باپ جو یہودی ربی (ملّا) ہے بیٹی سے ملنے آتا ہے اور بیٹی اسے اس نوجوان سے متعلق بتاتی ہے کہ کس طرح اس نے اسے امید سے وابستہ رکھا تو یہودی ملّا کو یہ بیان اچھا نہیں لگتا۔ کیونکہ وہ بیٹی سے بھی زیادہ مسلمانوں سے نفرت کرتا ہے وہ بیٹی کے ساتھ نوجوان سے ملتا ہے مگر اس کا ممنون ہونے کے بجائے اس پر شک کرتا ہے کہ وہ اس کی بیٹی کے ساتھ شرافت سے رہا ہوگا۔ اس پر بیٹی باپ سے اختلاف کرتی ہے یہاں تک کہ اپنے والد سے باغی ہو کر اسلام اپنانے کی خواہش کا اظہار کرتی ہے اور یوں ناول کا ایک خوشگوار انداز میں اختتام ہو جاتا ہے۔

 ناول ’’لایموت‘‘ شروع سے آخر تک قاری کو متجسس رکھتا ہے کہ اب کیا ہوگا؟ اس ناول کی زبان شستہ دلچسپ اور بیان دل کش ہے یہ ایک منفرد موضوع پر تحریرکیا گیا ہے چنانچہ اپنی گوناگوں خوبیوں کی وجہ سے اردو ادب عالیہ میں ایک قیمتی اضافے کی حیثیت اختیار کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کرتا ہے جاتا ہے ہے اور

پڑھیں:

پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراطلاعات   پنجاب  عظمٰی بخاری  نے کہا ہےکہ  پنکی ڈرگ  والی  پر ڈرامہ  بنانے کا  اعلان کیا گیا ہے، اس  موضوع  پر فلم بننی چاہیے تھی۔لاہور میں معروف ہدایت کارہ سنگیتا کی نئی فلم کی افتتاحی تقریب  سے خطاب کرتے ہوئے عظمٰی بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز  سنیما انڈسٹری کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہیں، نوجوان نسل کو  ٹچ  اسکرین سے نکال کر سنیما کی طرف لائیں گے۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ہم اچھے ڈرامے بنالیتےہیں تو  اچھی فلم کیوں نہیں بناسکتے، اچھے ڈراموں کے ساتھ اچھی فلمیں بھی بنانا ہوں گی، نوجوان ہدایت کار فلمی دنیا میں نئی سوچ لے کر آئیں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز  نے فلمی دنیا کو نئی سمت دی ہے، فلم کسی مخصوص طبقے کے لیے نہیں ہونی چاہیے، اچھے موضوعات پر معیاری فلمیں بناناہوں گی۔

پاکستان کی پرائیویٹ حج سکیم کے 3 منظمین کی پہلی،دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے کی خوشی میں مکہ مکرمہ میں اظہار تشکر کی تقریب

ان کا کہنا تھا کہ پنکی ڈرگ  والی پر ڈرامہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے، اس موضوع  پر فلم بننی چاہیے تھی، فلموں کے ذریعے ملک کا مثبت تشخص اجاگر کیا جاسکتا ہے، فلم سٹی منصوبے میں تمام جدید سہولیات فراہم کریں گے، جو نوجوان فلم  اور ڈرامہ پڑھ کر آرہے ہیں انہیں بھی موقع  ملےگا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان