ریاست نے ایک پارٹی کو ختم کرنے پر فوکس کیا تو ان کا اپنا کام رہ گیا اور دہشت گردی شروع ہوگئی، علی امین گنڈا پور
اشاعت کی تاریخ: 16th, March 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ حکومت سنبھالنے کے بعد 50 ارب روپے کا قرضہ اتارا، انڈومنٹ فنڈ میں 30 ارب رکھے ہیں جسے 50 ارب تک لے جائیں گے۔
وہ پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:مولانا فضل الرحمان تمہاری حیثیت نہیں کہ عمران خان کے ساتھ بیٹھ سکو، علی امین گنڈا پور
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹیکس لگا کر آمدن نہیں بڑھائی، یہ پیسہ موجود تھا، پہلے یہ کہاں جاتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ 20 ارب روپے رمضان پیکیج میں بانٹ رہے ہیں، اسکالر شپس ڈبل کیے، جہیز فنڈ 25 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے کردیا۔
علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ دسمبر تک تمام اداروں کو خودمختار بنا دیں گے۔ صوبے میں مائننگ کا بڑا ذخیرہ ہے۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے چیلنج دیا کہ کوئی پرفارمنس پر مناظرہ کرنا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں۔ 2014 سے جاری ہائیڈرل پراجیکٹ پر کام شروع کیا۔ کابینہ ممبران اور بیوروکریسی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں:ارباب نیاز اسٹیڈیم سے متعلق عمران خان کو غلط معلومات فراہم کی گئیں، علی امین گنڈا پور
انہوں نے کہا کہ صوبے کا دوسرا بڑا ایشو امن و امن و دہشت گردی کا ہے، یہ حالات خراب کیوں ہوئے، بانی کی دور میں یہ حالت ٹھیک ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ عہدہ سنبھالتے ہی امن وامان کی صورتحال کی جانب توجہ دی، کے پی اور بلوچستان کے حالات سندھ اور پنجاب سے یکسر مختلف ہیں۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ریاست نے ایک پارٹی کو ختم کرنے پر فوکس کیا تو ان کا اپنا کام رہ گیا اور دہشت گردی شروع ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے بارڈر پر سپر پاورز کو شکستیں ہوئی ہیں، وفاقی حکومت کی نااہلی سے حالات اس نہج پر آئے۔
یہ بھی پڑھیں:احتجاج اور دھرنوں کے سوا ان کا کوئی کام نہیں، وزیر اطلاعات کا علی امین گنڈا پور کو جواب
علی امین گنڈاپور کا کہن اتھا کہ دنیا میں مذاکرات سے حالات ٹھیک ہو جاتے ہیں، ہم نے اسٹیک ہولڈرز کو بلایا، 2 ماہ مکمل ہوئے ٹی او آرز وفاق نے نہیں دیے۔
انہوں نے کہا کہ کے پی پولیس مقابلہ کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پشاور ترقیاتی کام علی امین گنڈاپور کابینہ وفاقی حکومت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پشاور ترقیاتی کام علی امین گنڈاپور کابینہ وفاقی حکومت علی امین گنڈا پور انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثناءاللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے۔ اپنے بیان میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے عناصر کو اخلاقیات، دیانت داری اور شفافیت پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ ہوش کے ناخن لیں اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بے بنیاد بیانات دینے سے گریز کریں کیونکہ پیپلز پارٹی کے خلاف ہر الزام اور ہر بیان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ سندھ کے خلاف زہر اگلنے والوں کو پہلے شریف خاندان کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں، بیرون ملک جائیدادوں اور دیگر معاملات کا جواب دینا چاہیئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی رہنما اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بے بنیاد کہانیاں گھڑ رہے ہیں، جبکہ ان کی سیاست ہمیشہ سہاروں، ڈیلز اور مفاہمت پر قائم رہی ہے۔ سعدیہ جاوید نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے وسائل پر نظر رکھنے والے سیاسی عناصر پہلے اپنے طرزِ سیاست کا جائزہ لیں، جس جماعت کی بنیاد، ان کے بقول، جمہوری اقدار کی مخالفت پر استوار رہی ہو، وہ پیپلز پارٹی کو عوامی مینڈیٹ اور سیاسی شعور کا درس نہ دے۔ ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ عوام اب سیاسی نعروں اور الزامات کی سیاست سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کو مسترد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شعور میں اضافے کے بعد اس نوعیت کی سیاست مزید کامیاب نہیں ہو سکے گی۔