اتوار کو قاضی گنڈ میں لاپتہ نوجوان کی لاش ملنے کے بعد اہل خانہ نے احتجاج کیا، تاہم پولیس نے انہیں منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا، جس میں خواتین کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر اسمبلی میں پیر کے روز اس وقت شدید ہنگامہ آرائی ہوئی جب جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں قبائلی نوجوان کی ہلاکت اور پولیس کی مبینہ زیادتی کا معاملہ اٹھایا گیا۔ اتوار کو قاضی گنڈ میں لاپتہ نوجوان کی لاش ملنے کے بعد اہل خانہ نے احتجاج کیا، تاہم پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا، جس میں خواتین کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ پولیس افسر کی جانب سے کئے گئے مبینہ ناروا سلوک کی سخت مذمت کی جا رہی ہے اور اس پر جموں کشمیر پولیس نے تحقیقات کا بھی حکم دے دیا ہے۔

اسمبلی اجلاس کے دوران سورنکوٹ کے ایم ایل اے چودھری محمد اکرم نے پولیس کارروائی پر سخت اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک پولیس افسر نے مظاہرین پر بے رحمی سے لاٹھیاں برسائیں اور ایک خاتون کو ٹھوکر ماری، جو انتہائی شرمناک عمل ہے۔ انہوں نے قصوروار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ نیشنل کانفرنس، کانگریس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ارکان نے بھی اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر احتجاج کیا اور پولیس کے طرز عمل پر برہمی کا اظہار کیا۔ نیشنل کانفرنس کے لیڈر نذیر گریزی نے کہا "کیا جموں کشمیر ایک پولیس ریاست بن چکی ہے، کیا پولیس کسی کو بھی گولی مار سکتی ہے، گرفتار کر سکتی ہے، کیا پولیس کے لئے کوئی قانون نہیں"ـ

ہنگامے کے دوران نیشنل کانفرنس کے ارکان اسمبلی جاوید چودھری، میاں مہر علی، جاوید مرچال اور ظفر علی نے اسمبلی اسپیکر کے چیمبر میں داخل ہونے کی کوشش کی، لیکن مارشلز نے انہیں روک دیا۔ دریں اثنا پولیس نے اس افسر کے خلاف انکوائری شروع کر دی ہے، جس پر مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال کرنے کا الزام ہے۔ اس واقعے سے متعلق ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے۔ ادھر پولیس ترجمان کے مطابق سینٹرل کشمیر کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس کو اس معاملے کی تحقیقات کے لئے انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ہے، جو آئندہ 10 روز میں اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔

یاد رہے کہ ضلع کولگام چندیان پاجن گاؤں سے تعلق رکھنے والے دو بھائی، 25 سالہ ریاض احمد باجڑ اور 18 سالہ محمد شوکت باجڑ، اپنے ایک اور ساتھی مختار اعوان کے ہمراہ 14 فروری کو گھر سے شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے لئے اشموجی نامی ایک گاؤں روانہ ہوئے تھے، تاہم وہ واپس نہیں ہوٹے اور لاپتہ ہوگئے۔ ریاض اور شوکت کی لاش ایک ندی سے برآمد ہوئی جبکہ مختار ہنوز لاپتہ ہے۔ اہل خانہ کے مطابق متوفی انتہائی غریب کنبے سے تعلق رکھتے ہیں اور مزدوری کرکے اپنے اور اہل و عیال کے لئے نان شبینہ جٹا رہے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پولیس نے کے لئے

پڑھیں:

کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار

اسکرین گریب/ ایکس 

کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون کو گرفتار کرلیا گیا۔

سولجر بازار کے علاقے میں پولیس نے کارروائی کرکے موٹر سائیکل لفٹنگ میں ملوث خاتون ملزمہ کو گرفتار کیا ہے، پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع پر کارروائی کرکے ملزمہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کی گرفتاری سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے عمل میں آئی ہے، ملزمہ اپنے شوہر کے ہمراہ موٹر سائیکل لفٹنگ کی درجنوں وارداتوں میں ملوث رہی ہے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں دونوں میاں بیوی کو موٹر سائیکل لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، ملزمہ کے قبضے سے ایک موٹر سائیکل بھی برآمد کی گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمہ اور فرار شوہر کے خلاف ضابطے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا مزید تفتیش جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور ڈیفنس فیز 5 میں گھر کی بیسمنٹ سے 53 سالہ شخص کی لاش برآمد
  • دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے پر ہنگامہ
  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن