وقف ترمیمی بل کے خلاف مسلم پرسنل لاء بورڈ کا جنتر منتر نئی دہلی میں احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 17th, March 2025 GMT
لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے کہا کہ وقف ترمیمی بل املاک کو تباہ کرنے اور ہڑپنے کی سازش ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے وقف ترمیمی بل 2024 کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کا آغاز کیا ہے۔ مظاہرے میں مسلم علماء اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے وقف ترمیمی بل پر سوالات اٹھائے ہیں اور اعتراضات کا اظہار کیا ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے کہا کہ وقف ترمیمی بل املاک کو تباہ کرنے اور ہڑپنے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل کے خلاف کروڑوں مسلمانوں کی طرف سے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کو ای میل بھیجے گئے تھے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے مطابق ہندوستانی آئین ہمارے تمام مذہبی معاملات کے تحفظ کی ذمہ داری دیتا ہے، جس طرح ہمارے لئے نماز اور روزہ ضروری ہے، اسی طرح وقف کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ مولانا فضل الرحیم مجددی نے کہا کہ حکومت کو وقف اراضی پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیئے تھی لیکن حکومت نے وقف اراضی پر قبضہ کرنے کا قانون بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہندوستان کو غلامی کی بنیاد پر نہیں، وفاداری کی بنیاد پر قبول کیا ہے، ہندوستان کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ، مختلف قومی اور ریاستی سطح کی مسلم تنظیموں اور ممتاز مسلم شخصیات نے جے پی سی کے سامنے بل کے ہر نکتے پر اپنے مضبوط دلائل پیش کئے اور تحریری دستاویزات پیش کیں۔ اس کے باوجود حکومت نے اپنا موقف بدلنے کے بجائے اس بل کو مزید سخت اور متنازع بنا دیا۔
قبل ازیں مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ ساتھ بی جے پی کی اتحادی جماعتوں کے سربراہوں سے ملاقات کی تھی اور انہیں وقف ترمیمی بل پر مسلم کمیونٹی کے موقف سے آگاہ کیا تھا۔ بورڈ کا یہ احتجاج 14 مارچ کو ہونا تھا لیکن 14 مارچ کو ہولی کے تہوار کی وجہ سے اسے 17 مارچ تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اس تناظر میں بورڈ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے تلگو دیشم پارٹی کے سربراہ اور آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ چندرا بابو نائیڈو سے وجئے واڑہ میں ملاقات کی تھی۔ اس وفد کی قیادت بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی کر رہے تھے۔ انہوں نے وزیراعلٰی کو وقف ترمیمی بل پر مسلم کمیونٹی کے شدید اعتراضات سے آگاہ کیا۔ اس دوران ملک بھر کی مسلم تنظیموں نے اس بل کی شدید مخالفت کی۔
وقف ترمیمی بل 2024ء کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے احتجاج پر کانگریس لیڈر پرمود تیواری نے کہا کہ جب وقف کے حوالے سے جے پی سی تشکیل دی گئی تھی، تو ہم نے وہاں کی صورتحال کو واضح کیا تھا، جب یہ (بل) پارلیمنٹ میں آئے گا، ہم وہاں بھی واضح کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی جو چاہتی ہے ہم اس سے متفق نہیں ہیں۔ دہلی کے جنتر منتر پر وقف ترمیمی بل 2024 کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے احتجاج پر شیو سینا (یو بی ٹی) کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ وقف بل پر تب تک تبصرہ کرنا درست نہیں ہوگا جب تک اسے پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جاتا اور جس طرح کی سیاست کی جارہی ہے وہ افسوسناک ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحیم مجددی مسلم پرسنل لاء بورڈ کے انہوں نے کہا کہ کے خلاف کہ وقف
پڑھیں:
وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
اسلام آباد (رضوان عباسی ) وزارتِ خارجہ کی قونصلر سروسز کے تحت اپوسٹل سروسز کے لیے کوریئر کمپنیوں کے انتخاب کے عمل پر آڈٹ نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خدمات کے حصول میں پبلک پروکیورمنٹ رولز (پیپرا) کے تقاضوں پر مکمل عمل نہیں کیا گیا اور اوپن ٹینڈرنگ کے شواہد بھی ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کو حاصل دستاویزات کے مطابق 17 مئی 2024 سے اپوسٹل سروسز کے لیے ٹی سی ایس، لیوپرڈز، جیرینز، ایم اینڈ پی اور ایکسیلنٹ کوریئر سروسز (ECS) سمیت پانچ کوریئر کمپنیوں کو دستاویزات کی وصولی اور ترسیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم آڈٹ کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے انتخاب کے لیے نہ تو اوپن کمپیٹیٹیو بڈنگ کی گئی اور نہ ہی واضح سلیکشن کرائٹیریا یا کاروباری اہلیت کا مکمل ریکارڈ دستیاب تھا۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی طریقہ کار صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں قائم فارن آفس لیزن دفاتر (FALOs) میں بھی اختیار کیا گیا۔
رپورٹ میں ای سی ایس یعنی ایکسیلینٹ کورئیر سروسز کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق ای سی ایس کمپنی کے قومی سطح پر متعلقہ تجربے، کاروباری پروفائل اور اہلیت سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) سے متعلق دستاویزات بھی ریکارڈ پر موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ پورے معاملے کی جامع تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ سرکاری خریداری اور خدمات کے حصول میں پیپرا رولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے آڈٹ رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر تاحال باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔