شوال کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 30مارچ کو طلب
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
شوال کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 30مارچ کو طلب WhatsAppFacebookTwitter 0 18 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)شوال کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی اور زونل کمیٹیوں کا اجلاس 30مارچ (اتوار)کو کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی میں منعقد ہوگا، جہاں شوال کا چاند دیکھنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر سے شہادتیں وصول کی جائیں گی۔اجلاس میں مذہبی اسکالرز، ماہرین موسمیات اور دیگر شرکت کریں گے۔ چاند نظر آنے یا نہ آنے کی صورت میں پاکستان میں عید الفطر منانے کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی اجلاس 28 فروری کو پشاور میں منعقد ہوا تھا، اجلاس میں چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے اعلان کیا تھا کہ ملک بھر میں چاند نظر آنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی، لہذا ملک میں پہلا روزہ 2 مارچ بروز اتوار ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔