ویب ڈیسک: سابق کمشنر کوئٹہ افتخار جوگزئی کی بیٹی نے دورانِ پرواز  نجی ائیرلائن کی فضائی میزبان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ 

تفصیلات کے مطابق واقعہ 18 مارچ کو کوئٹہ سے اسلام آباد جانے والی سرین ائیر کی فلائٹ میں پیش آیا جس میں سابق کمشنر کوئٹہ افتخار جوگزئی بیٹی صائمہ کے ساتھ سفر کررہے تھے اور دونوں نے کوئٹہ ائیر پورٹ پر چیک ان کرتے وقت بھی عملے سے بدتمیزی کی۔

تربیلا ڈیم ڈیڈ لیول پرپہنچ گیا، پانی کا قابل استعمال ذخیرہ ختم

طیارے میں داخل ہونے کے بعد فضائی عملہ مسافروں کو سیٹ بیلٹ باندھنے سمیت دیگر ہدایات دیتا ہے اور اس دوران خاتون فضائی میزبان نے صائمہ جوگزئی سے بھی سیٹ بیلٹ باندھنے اور کھانے کی میز بند کرنے کو کہا تو اس پر سابق کمشنر کی بیٹی صائمہ جوگزئی آپے سے باہر ہوگئی۔

مبینہ طور پر سابق کمشنر افتخار جوگزئی اور ان کی بیٹی صائمہ جوگزئی نے غیرشائستہ زبان استعمال کی اور طیارے میں شورشرابہ شروع کردیا۔

View this post on Instagram

A post shared by AVIATION NEWS (@aviationnews___)

نامعلوم مسلح افراد نے موٹر وے پولیس کے اہلکاروں سے اسلحہ اور گاڑیاں چھین لی

فضائی میزبان نے کپتان کو معاملے سے آگاہ کیا اور باپ بیٹی کی جانب سے ہنگامہ آرائی جاری رکھنے پر کپتان نے کنٹرول ٹاور سے رابطہ کیا اور طیارے کو رن وے سے واپس لے آیا  جب کہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ائیرپورٹ سکیورٹی فورس کو طیارے میں فوری طور پر طلب کرلیا گیا۔

مسلسل ہنگامہ آرائی پر طیارے کے کپتان نے مسافروں کے تحفظ کی خاطر باپ اور بیٹی کو آف لوڈ کرنے کے لیے کہا جس پر صائمہ جوگزئی نے طیارے سے اترنے سے انکار کردیا۔ 

23 سالہ نوجوان صرف دو سال نوکری کے بعد مکمل پنشن کے ساتھ ریٹائر

ائیر لائن انتظامیہ کے مطابق اس موقع پرصائمہ جوگزئی نے غصے میں ایک فضائی میزبان کو مکہ دے مارا جس سے چہرے پر مکہ لگنے سے خاتون فضائی میزبان کی ناک سے خون نکلنے لگا اور ایک دانت بھی ٹوٹ گیا جس کے بعد اے ایس ایف نے دونوں باپ بیٹی کو حراست میں لے لیا۔

ائیر لائن انتظامیہ کا بتانا ہے کہ واقعے کے بعد بلوچستان انتظامیہ نے معاملہ ختم کرنے کیلئے دباو ڈالا، کمشنر کوئٹہ فوری طور پر کوئٹہ ائیرپورٹ پہنچے، اے ایس ایف سے صورتحال معلوم کی اور معاملہ رفع دفع کرنے کا کہا جب کہ بعد میں کمشنر کوئٹہ کی جانب سے باپ بیٹی سے تحریری معافی نامہ لکھوایا گیا۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 141 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

معافی نامے کے بعد دونوں باپ بیٹی کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے جانے کی اجازت دے دی گئی جب کہ زخمی ائیر ہوسٹس کو اسپتال روانہ کر دیا گیا۔

ائیر لائن ذرائع کا بتانا ہے کہ طیارے میں ہنگامہ آرائی کرنے والی خاتون مبینہ طور پر نشے میں تھی جب کہ یہ واقعہ فضائی عملے کی عزت اور تحفظ پر ایک بڑا سوال بھی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: صائمہ جوگزئی کمشنر کوئٹہ طیارے میں باپ بیٹی کی بیٹی کے بعد

پڑھیں:

وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل