جدید اور مفت لیپ ٹاپ حاصل کرنے کی خواہشمند طلبا کے لئے بڑی خبر آگئی ، طلبا کے پاس آن لائن اپلائی کرنے کا آخری موقع ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے چیف منسٹر لیپ ٹاپ اسکیم کے حوالے سے طلبا کو اہم خبر دے دی۔

وزیر تعلیم پنجاب نے کہ چیف منسٹر لیپ ٹاپ اسکیم میں اپلائی کرنے کا آج آخری دن ہے، لیپ ٹاپ کیلئے اب تک 2.

5 لاکھ سے زائد طلبا رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ جدید لیپ ٹاپ کے خواہشمند بی ایس کے طلبا آج تک آن لائن اپلائی کر سکتے ہیں، اسکیم کے تحت 1 لاکھ 10 ہزار طلبہ میں جدید ترین لیپ ٹاپ تقسیم کے جائیں گے۔

صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ لیپ ٹاپ اسکیم کیلئے سرکاری یونیورسٹیوں کے بی ایس کے طلبا اپلائی کر سکیں گے، بی ایس کے پہلے اور دوسرے سمسٹر کے طلبا اسکیم کے اہل ہوں گے۔

خیال رہے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کے نوجوانوں کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے کا ایک اور وعدہ پورا کرتے ہوئے لیپ ٹاپ اسکیم کا اعلان کیا تھا۔

لیپ ٹاپ پروگرام کے لیے آن لائن اپلائی کریں
اہل طلباء اس لنک پر کلک کرکے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں: cmlaptophed.punjab.gov.pk۔ مفت لیپ ٹاپ کے لیے درخواست دینے سے پہلے انہیں اپنی تفصیلات آن لائن جمع کرانے کی ضرورت ہوگی۔

کیا نجی کالجوں یا یونیورسٹیوں کے طلباء لیپ ٹاپ پروگرام کے لیے درخواست دینے کے اہل ہیں؟
نہیں، نجی کالجوں یا یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والے طلباء لیپ ٹاپ اسکیم کے اہل نہیں ہیں۔

کیا لیپ ٹاپ پروگرام کے لیے درخواست کی فیس ہے؟
نہیں، لیپ ٹاپ اسکیم کے لیے کوئی درخواست فیس نہیں ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: لیپ ٹاپ اسکیم اسکیم کے ا ن لائن کے طلبا کے لیے

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت