باس سے چھٹی کی درخواست کرنے کے 10 منٹ بعد ملازم انتقال کرگیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
کہتے ہیں کہ کسی کی زندگی کا بھروسہ نہیں، کب آخر سانس آجائے کسی کو معلوم نہیں۔ ایسا ہی بھارت میں اس وقت ہوا جب شنکر نامی ایک شخص نے اپنے باس سے چھٹی کی درخواست کی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نجی کمپنی میں بطور مینیجر کام کرنے والے کے وی آیئر نے بتایا کہ اس کے ساتھ کام کرنے والا 40 سالہ شنکر ایک صحت مند شخص تھا جس کی موت اچانک دل کا دورہ پڑنے سے ہوگئی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کے وی آئیر نامی شخص نے 13 ستمبر کو پوسٹ شیئر کی اور اپنے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بارے میں بتایا۔
DEVASTATING INCIDENT WHICH HAPPENED TODAY MORNING :-
One of my colleague, Shankar texted me today morning at 8.
"Sir, due to heavy backpain I am unable to come today. So please grant me leave." Such type of leave requests, being usual, I replied "Ok take…
— KV Iyyer – BHARAT ???????????????? (@BanCheneProduct) September 13, 2025
انہوں نے لکھا کہ آج صبح 8 بجکر 37 منٹ پر معمول کے مطابق کام پر جانے والا تھا کہ شنکر کا پیغام موصول ہوا کہ میں آج بیمار ہوں اس لیے کام پر نہیں آسکتا۔
کے وی آیئر کے مطابق شنکر کی چھٹی کی درخواست پر میں نے اسے چھٹی دے کر آرام کا مشورہ دیا اور تقریباً 11 بجے کے قریب مجھے شنکر کے نمبر سے کال موصول ہوئی اور بتایا گیا کہ اس کا انتقال ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں مجھے یقین نہیں آیا تو میں نے اپنے ایک اور ساتھی سے اس کی تصدیق کی تو مجھے پتہ چلا کہ صبح چھٹی کا میسج کرنے کے ٹھیک 10 منٹ یعنی 8 بجکر 47 منٹ پر شنکر کو دل کا دورہ پڑا، جس کے سبب اس کا انتقال ہوگیا۔
سوشل میڈیا پر مذکورہ پوسٹ وائرل ہوئی تو صارفین نے بھی افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
Post Views: 4
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔