اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سینٹ کی  قائمہ کمیٹی برائے صنعت وپیداوار کے اجلاس میں شوگر ایڈوائزری بورڈ کی ساخت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس ادارے کی چینی کی قیمت مقرر کر نے  کے حوالے سے کردار پر بھی بات چیت کی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ نیشنل شوگر پالیسی بورڈ کا کردار  سفارشات کرنے والے ادارے جیسا ہے جو نیشنل شوگر پالیسی چینی کی پیداوار اور اس کی درآمدو برآمد کا جائزہ لیتا ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عون  عباس نے سوال کیا کہ حکومت نے چینی کی ملکی ضروریات کو پیش نظر رکھا تھا جب 7 لاکھ ٹن چینی برامد کرنے کی اجازت دی گئی؟۔ انہوں نے کہا کہ شوگر ملزنے چینی کی قیمت بڑھا دی اور اس کی وجہ ان پٹ کاسٹ کو بتایا۔ انہوں نے چینی کی پرائس کے تعین کرنے میں شوگر ایڈوائزری بورڈ کے رول پر بھی سوالات کیے۔ ادارے کے نمائندے نے کہا کہ شوگر ایڈوائزری بورڈ نے سٹرٹیجک سٹاک کو برقرار رکھنے پر زور دیا تاہم چینی کی قیمت مقرر کرنے میں اس کا کوئی کردار نہیں ہے۔  سرکاری نمائندے نے کہا یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن کو نجکاری کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے اور اس کی رائٹ سائزنگ کا عمل شروع ہے۔  گزشتہ دو سال کے آڈٹ نہیں ہوئے۔ ان اڈٹس کو اگست میں مکمل کر لیا جائے گا۔ ایم ڈی سٹورز کارپوریشن نے کہا کہ ادارے کے اثاثوں کی مجموعی مالیت  8 ارب 30 کروڑ روپے ہے جبکہ ادارے پر 14 ارب روپے کی ذمہ داریاں موجود ہیں  ادارے کے 11ہزار 14 ملازمین ہیں جن میں سے 5 ہزار باقاعدہ ملازمین اور 5  ہزار سے ذائد  ملازمین  کنٹریکٹ یا روزانہ معاوضہ کی بنیاد پر ہیں ریگولر ملازمین کو سرپلس پول میں ڈالا گیا ہے جبکہ  کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا سیکرٹری صنعت و پیداوار کی اجلاس میںعدم  شرکت  پر گہری تشویش ظاہر کی گئی اجلاس میں سیکرٹری کو ہدایت کی گئی کہ وہ ائندہ اجلاس میں شرکت کو یقینی بنائی، ایم ڈی  یو ایس سی  نے کہا کہ  اس وقت ملک بھر میں 3 ہزار سے  زائد سٹورز ہیں، منافع میں نہ چلنے والے 1700 یوٹیلٹی سٹورز بند ہوں گے، پرائیویٹ کرنے کے بعد صرف 1500 سٹورز کیلئے سٹاف درکار ہوگا، ایک ہزار کے قریب اس وقت فرنچائزز ہیں، یوٹیلٹی سٹورز کا ماہانہ خرچہ 1ارب 2کروڑ تھا۔ نقصان میں چلنے والے سٹورز بند کرنے کے بعد ماہانہ خرچہ 52 کروڑ روپے رہ گیا ہے، ایک ماہ میں یوٹیلٹی سٹورز بند کرنے سے ماہانہ نقصان 22 میں کروڑ میں کمی آئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: یوٹیلٹی سٹورز اجلاس میں سٹورز بند نے کہا کہ چینی کی

پڑھیں:

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

پشاور (نیوز ڈیسک) سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی، پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی سرکاری پنشنرز کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

حکومتی اعلامیے میں کہا گیا کہ پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا اور اس سے تمام صوبائی سرکاری پنشنرز مستفید ہو سکیں گے۔

محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں پنشن میں اضافے کے حوالے سے اہم نکات اور شرائط واضح کی گئی ہیں۔

جس میں کہا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ 30 جون 2026 تک حاصل کردہ نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا اور یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے کے حقدار ہوں گے۔

یہ اضافہ فیملی پنشن اور کمپیشنٹ الاؤنس کے کیسز پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگا۔

اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم صوبائی حکومت کے اہل پنشنرز بھی مقررہ شرائط و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ پہلے سے ملنے والی کسی بھی “خصوصی اضافی پنشن” پر لاگو نہیں ہوگا۔

خیبرپختونخوا حکومت کے اس اقدام کو صوبے کے لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے خاندانوں کے لیے موجودہ معاشی صورتحال میں ایک بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • راولپنڈی میں ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا