عیدالفطر پر تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کا اعلان ہوگیا، نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, March 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)عیدالفطر کے موقع پر تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کا اعلان کر دیا گیا اور اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزارت تعلیم نے عید الفطر اور موسم بہار کے موقع پر سرکاری تعلیمی اداروں میں تعطیلات کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں تعطیلات 31 مارچ سے 4 اپریل تک ہوں گی اور نئے تعلیمی سیشن کا آغاز 7 اپریل سے ہوگا۔
دوسری جانب حکومت پنجاب نے بھی عید کی تعطیلات کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کے مطابق تعلیمی ادارے عیدالفطر کے موقع پر 31 مارچ سے 2 اپریل تک 3 دن کے لیے بند رہیں گے۔
واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے عید الفطر 31 مارچ کو ہونے کی پیشگوئی کی ہے، جس کے لیے ماہِ شوال کا چاند 29 مارچ کو 3 بج کر 58 منٹ پر پیدا ہوگا اور 30 مارچ کو رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ہوگا اس وقت چاند کی عمر 27 گھنٹے ہوگی، جس کے باعث ماہ شوال کا چاند با آسانی سے دیکھا جا سکے گا، تاہم ماہ شوال کے چاند کا حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کرے گی۔
مزیدپڑھیں:کیا زکوٰۃ کی رقم سے ملازمین کو افطاری کروا سکتے ہیں؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: تعلیمی اداروں میں
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔