چین میں کاروباری اداروں کی ادائیگی کی ضمانت سے متعلق ترمیم شدہ ضوابط کا اجزاء
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
بیجنگ :چینی وزیر اعظم لی چھیانگ نے ریاستی کونسل کے فرمان نمبر 802 پر دستخط کیے ، جس کے مطابق چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ادائیگی کی ضمانت سے متعلق ترمیم شدہ ضوابط جاری کیے گئے ہیں ، جو یکم جون ، 2025 سے نافذ العمل ہوں گے۔ حالیہ دنوں چین کی وزارت انصاف اور وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حکام نے ضوابط سے متعلقہ معاملات پر کہا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ادائیگی کی ضمانت کو مضبوط بنانے کے لیے ضوابط میں واضح کیا گیاہے کہ کاؤنٹی کی سطح پر یا اس سے اوپر کی حکومتیں اور ان کے متعلقہ محکمے نگرانی اور معائنے کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے بقایا جات کی ادائیگی میں تیزی لائیں گے۔ ضوابط میں ادائیگی کی مدت کو مزید واضح کرنے کے لئے “ادائیگیوں کی دفعات” پر ایک خصوصی باب قائم کیا گیا ، بلخصوص یہ طے کیا گیا ہے کہ بڑے کاروباری ادارے سامان ، منصوبوں اور سروسز کی فراہمی کی تاریخ سے 60 دن کے اندر ادائیگی کریں گے۔ غیر نقد ادائیگی کے طریقوں اور غیر متنازعہ رقم کی ادائیگی کی ذمہ داریوں کی وضاحت میں مزید بہتری لائی گئی ۔ ضوابط میں “قانونی ذمہ داری” پر ایک خصوصی باب بھی قائم کیا گیا اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر قومی ملکیت کا کوئی بڑا ادارہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو ادائیگیوں میں ڈیفالٹ کرتا ہے ، جس سے منفی نتائج یا اثرات مرتب ہوتے ہیں تو قومی ملکیت والے اداروں کے ذمہ داراں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ادائیگی کی کیا گیا
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔