ایچ ای سی اسکالرشپس پر بیرون ملک فرار اسکالرز کیخلاف ایف آئی آر کرائے، چیئرمین پی اے سی کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس کے دوران غیر ملکی اسکالرشپس کے مفرور اسکالرز سے 1.5 ارب روپے واپس نہ لیے جانے کا انکشاف ہوا جب کہ چیئرمین جنید اکبر نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بھگوڑے اسکالرز کے خلاف ایف آئی آرز کرانے کی ہدایت کردی۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر کی سربراہی میں ہوا، اجلاس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں امریکا کے فل برائٹ اسکالرشپ میں 92 میں سے 89 کینسل کیے جانے کا انکشاف ہوا، شاہدہ اختر نے کہا کہ کیا ایسے لوگوں کے پاسپورٹ کینسل نہیں ہوسکتے، کمیٹی چیئرمین جنید اختر نے کہا کہ ایسے لوگوں کے شناختی کارڈ وغیرہ بھی بلاک ہونے چاہئے۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی نے کہا کہ بھگوڑے اسکالرز کی تعداد 96 ہے، کچھ کیس عدالتوں میں بھی ہیں، کافی اسکالرز سے 80 کروڑ کے قریب جرمانے کی رقم واپس لے لی گئی ہے۔
شازیہ مری نے کہا کہ اس سارے معاملے کا مستقل حل ہونا چاہیے کہ قومی پیسہ ایسے لوگوں پر نہ خرچ ہو جو پاکستان واپس نہ آئے، ایچ ای سی کو اس مسئلے کا سوچنا چاہیے۔
جنید اکبر نے کہا کہ ایچ ای سی ایسے لوگوں کے خلاف ایف آئی آرز کروائے، سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ یہ بہت شرمناک ہے کہ ملک کا پیسہ استعمال کررہے واپس نہیں آتے۔
جنید اکبر نے کہا کہ اگر عدالتوں سے ریکوری ہورہی ہے تو اس کا بھی تخمینہ لگایا جائے، اس پر ایچ ای سی کا خرچہ کون پورا کرے گا۔
اے پی سی نے ایچ ای سی کو دو ہفتوں میں اسکالرشپ سے متعلق رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایسے لوگوں جنید اکبر ایچ ای سی نے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔