غزہ میں امریکی اسرائیلی عزائم کو ناکامی ہوئی اور حماس نے تاریخ کا دھارا بدل دیا ہے، لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
ملی یکجہتی کونسل کے جنرل سیکرٹری نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں نے لازوال قربانیاں دے کر امریکہ، برطانیہ اور یورپی ممالک کی طرف سے ناجائز اسرائیل کی سرپرستی کو پوری دنیا میں بے نقاب کردیا، اسلامی ممالک جو بزدلی اور کمزوری اور امریکی دباو کے تحت اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اقدام کرنے جارہے تھے، اسے روک دیا۔ اسلام ٹائمز۔ نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیکرٹری جنرل مِلی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے اسلام آباد میں یومِ آزادی پاکستان و یوم القدس سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی آزادی دو قومی نظریہ اور قرآن و سنت کے نظام کے قیام کے لیے حاصل کی گئی، قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان دنیا کی سب سے بڑی مملکت بنی۔ اسلامی نظریہ، آئین و عدلیہ، جمہوریت و غیرجانبدارانہ انتخاب، وسائل کی منصفانہ تقسیم سے گریز کی وجہ سے چاپلوسی، میرٹ کی پامالی، جمہوری اقدار کی جڑ نہ لگنے اور وفاق کو مضبوط کرنے کے ناجائز ہتھکنڈوں نے صوبوں کو حقوق سے محروم کیا، جس کی وجہ سے تعصبات، زہریلی قوم پرستی، کرپشن، عیاشی اور نااہلی ملک و مِلت کا مقدر بنادی گئی؛ ریاستی، سفارتی اور انتظامی معاملات میں ملک بے سمت ہوگیا۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور ایٹمی صلاحیت کی وجہ سے دشمن قوتیں ملک کو غیرمستحکم کرنے کے لیے دہشت گردی، فسادِ زندگی بڑھا رہے ہیں، جبکہ اندرونی سیاسی انتشار، پاور کاریڈورز میں جنگ و جدل کی وجہ سے پاکستان مستحکم، دوٹوک اور پائیدار پالیسی بنانے سے قاصر ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ طوفان الاقصی آپریشن ناگزیر تھا، فلسطینیوں نے لازوال قربانیاں دے کر امریکہ، برطانیہ اور یورپی ممالک کی طرف سے ناجائز اسرائیل کی سرپرستی کو پوری دنیا میں بے نقاب کردیا۔ اسلامی ممالک جو بزدلی اور کمزوری اور امریکی دباو کے تحت اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اقدام کرنے جا رہے تھے، اسے روک دیا۔ غزہ میں امریکی اسرائیلی عزائم کو ناکامی ہوئی اور حماس نے تاریخ کا دھارا بدل دیا ہے۔ پوری دنیا میں اہلِ غزہ فلسطین کے انسانوں پر ظلم و جبر کے خلاف بیداری کی ایک نئی لہر پیدا ہوگئی ہے۔ معاہدہ ابراہم ناکام ہوگیا، اب دوبارہ مزید مسلم ممالک کو شامل کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ امریکہ اور صیہونی ناجائز رجیم اب جو بھی حربہ استعمال کریں لیکن طاقت، انسانوں کے قتلِ عام اور نسل کشی کا ڈاکٹرائین ناکام ہوگا۔ 25 کروڑ پاکستانی یوم القدس کے موقع پر سڑکوں، چوراہوں پر نکلیں گے اور فلسطینیوں سے غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی وجہ سے
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔