ایران نے ٹرمپ کے جوہری معاہدے پر مذاکرات کے حوالے سے خط کا جواب دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, March 2025 GMT
TEHRAN:
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری معاہدے پر مذاکرات کے حوالے سے بھیجے گئے خط کا جواب دے دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے جواب میں موجودہ صورتحال اور ٹرمپ کے خط کے حوالے سے ایرانی موقف کو واضح کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ خط عمان کے ذریعے امریکہ تک پہنچایا گیا ہے، جو اس معاملے میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا خط مذاکرات کی پیشکش نہیں بلکہ دھمکی ہے، ایران کا ردعمل
عراقچی نے مزید کہا کہ ایران ماضی کی طرح امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
امریکی صدر نے 12 مارچ کو ایران کو خط بھیجا تھا جس میں نئے جوہری معاہدے پر بات چیت کی درخواست کی گئی تھی، اور دو ماہ کی مہلت دی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔