اے این ایف کی بین الصوبائی منشیات اسمگلروں کے خلاف کارروائی، بھاری مقدار میں منشیات برآمد
اشاعت کی تاریخ: 29th, March 2025 GMT
اینٹی نارکوٹکس فورس( اے این ایف) کی بہترین حکمت عملی کی بدولت بھاری مقدار میں منشیات برآمد، بدنام زمانہ اسمگلر گرفتار۔
باوثوق ذرائع سے موصول ہونے والی انٹیلیجنس کی بنیاد پر اے این ایف کے عملے نے ایک ٹیوٹا لینڈ کروزر کا پیچھا کیا۔ ننکانہ صاحب ریسٹ ایریا کے قریب ملزمان کو شک ہوا اور انہوں نے اے این ایف عملے پر فائرنگ کر دی۔ اے این ایف عملے نے تعاقب کرتے ہوئے منگتاوالہ کے علاقے سے گاڑی کو برآمد کر لیا۔ مقامی افراد کے مطابق ملزمان گاڑی چھوڑ کر دوسری گاڑی میں فرار ہو گئےتھے۔ تلاشی لینے پر گاڑی سے 339.
اے این ایف پنجاب کے عملے نے بھاگ جانے والے ملزمان کی گرفتاری کے سلسلے میں معلومات کا تبادلہ اے این ایف خیبرپختونخوا سے کیا۔ جس پر اے این ایف خیبرپختونخوا نے کوہاٹ میں آپریشن کے دوران ننکانہ صاحب کیس سے متعلق ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ملزم نے گرفتاری کے دوران فائرنگ کر کے فرار ہونے کی کوشش کی۔
ترجمان اے این ایف کے مطابق انتہائی سنسنی خیز آپریشن میں بغیر کسی جانی نقصان کے خطرناک ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ ملزم کو سخت سیکیورٹی میں کوہاٹ سے پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔ ملزم کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ گینگ کے دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے گرفتار ملزم سے تحقیقات کا عمل جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے این ایف
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے این ایف اے این ایف
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔