وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے گھریلو صارفین کے لیے 7.41 پیسے جبکہ صنعتی صارفین کے لیے 7.69 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں کمی کا اعلان کیا ہے، 4 کروڑ صارفین میں سے ایک کروڑ 80 صارفین کا بل پہلے ماہانہ 2 ہزار روپے آتا تھا، ان کا بل اب ایک ہزار روپے سے بھی کم آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی نرخ اور مہنگائی میں کمی نے اسٹاک ایکسچینج کو تگڑا کردیا

اویس لغاری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت 50 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے لائف لائن کسٹمر سے 4 روپے 78 پیسے فی یونٹ بجلی کی قیمت وصول کی جا رہی ہے جس کے بعد 100 یونٹ تک استعمال کرنے والے لائف لائن کسٹمر سے نو روپے 37 پیسے فی یونٹ چارجز وصول کیے جا رہے ہیں۔

ایک سے 100 یونٹ تک استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین سے 14 روپے 67 پیسے فی یونٹ وصول کیے جا رہے تھے جو کہ اب اٹھ روپے 52 پیسے وصول کیے جائیں گے۔

اسی طرح 100 یونٹ سے 200 یونٹ تک استعمال کرنے والوں سے 17 روپے 65 پیسے وصول کیے جا رہے تھے، جس سے اپ 11 روپے 51 پیسے اس وصول کیے جائیں گے۔ گزشتہ سال جون کے مقابلے میں اب تک ان صارفین کو 10 روپے 8 پیسے کا ریلیف دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی کی قیمتوں میں کمی، حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف سے بڑا مطالبہ کردیا

اویس لغاری نے کہا کہ گھریلو صارفین سے گزشتہ سال جون میں 39.

29 روپے فی یونٹ وصول کیے جا رہے تھے، اس وقت معمولی کمی کے بعد 38.34 روپے وصول کیے جا رہے ہیں، ان صارفین کو 6 روپے 71 پیسے کا ریلیف دیا گیا ہے اور اب ان صارفین سے 31.63 روپی فی یونٹ بجلی کے چارجز اصول کیے جائیں گے۔

اسی طرح کمرشل صارفین سے اس وقت 71.06 روپے وصول کیے جا رہے تھے جن کو اب 8.58 روپے کا ریلیف دیا گیا ہے اور اب ان صارفین سے 62.47 روپے  فی یونٹ وصول کیے جائیں گے۔

اویس لغاری نے بتایا کہ انڈسٹریل صارفین سے جون 2024 میں 58.50 روپے فی یونٹ وصول کیے جا رہے تھے تو ہم اب 10 روپے سے زائد کمی کے بعد 48.19 روپے فی یونٹ وصول کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اب وزیراعظم نے ان سارے صارفین کو مزید 7 سے 9 روپے کا ریلیف دیا ہے۔ اور اب ان صارفین سے 40 روپے 51 پیسے فی یونٹ وصول کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بجلی کی قیمتوں میں 7 روپے 41 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کردیا

انہوں نے کہا کہ زرعی صارفین سے 2024 میں 43.38 روپے فی یونٹ اور اب 41.7 روپے فی یونٹ وصول کیے جا رہے تھے، تاہم اب ان صارفین کو 7 روپے 18 پیسے کا ریلیف دیا گیا ہے اور اب ان صارفین سے 34.58 روپے فی یونٹ وصول کیے جائیں گے۔

اویس لغاری نے کہا کہ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ ایک بڑا مسئلہ تھا، 2018 میں یہ قرضہ 702 ارب تھا، 2018 سے 2022 تک اس قرضے میں 1500 ارب سے زائد کا اضافہ ہوا، اور اب 2400 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، لیکن اب اس گردشِ قرضے میں کمی آئی گی، اس سال بھی گردشی قرضے میں 9 ارب روپے کی کمی ہوئی ہے۔

 اویس لغاری نے کہا کہ 36 آئی پی پیز سے مذاکرات ہو چکے ہے، جس سے پاور پلانٹس کی 3 سے 25 سال عمر کے دوران حکومت کو 3 ہزار 696 ارب روپے کی بچت ہو گی۔

اویس لغاری نے کہا کہ جون تک تمام 4 کروڑ بجلی صارفین کے میٹرز کی آٹومیشن شروع کر دی جائے گی، جس سے آئندہ  3 سال میں ہر میٹر اور ٹرانسفارمر کا سسٹم آن لائن کر دیا جائے گا۔

اویس لغاری نے کہا ہے کہ فی الوقت پہلے مرحلے میں 3 ڈسکوز کی نجکاری کے بین الاقوامی طرز پر زور و شور سے کام شروع ہے۔ ان 3 ڈسکوز میں آئیسکو ،گیپکو اور فیسکو شامل ہیں۔ اگر یہ نجکاری کامیاب ہو گی تو دوسرے مرحلے میں لیسکو، سیپکو ، میپکو کی نجکاری کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اویس لغاری بجلی بل سیپکو فی یونٹ فیسکو گیپکو لیسکو میپکو وفاقی وزیر توانائی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اویس لغاری بجلی بل سیپکو فی یونٹ فیسکو لیسکو میپکو وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ اور اب ان صارفین سے استعمال کرنے پیسے فی یونٹ سے فی یونٹ صارفین کو یونٹ تک بجلی کی

پڑھیں:

دو ہفتے کے دوران پٹرول 20 اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگا

18 جولائی کو وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد صرف ایک ہفتے میں پٹرول کی قیمت میں 15 اور ڈیزل کی قیمت میں 24 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دو ہفتے کے دوران پاکستان میں پٹرول 20 روپے اور ڈیزل 55 روپے مہنگا ہو چکا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ 18 جولائی کو وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد صرف ایک ہفتے میں پٹرول کی قیمت میں 15 اور ڈیزل کی قیمت میں 24 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا۔ پیٹرولیم ڈویژن نے 24 جولائی کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے کا اضافہ کیا گیا، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔ حکومت نے گزشتہ روز بھی ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • 100 روپے کا موبائل لوڈ کروانے پر اصل بیلنس کتنا ملتا ہے؟ ٹیکس کی مکمل تفصیل سامنے آگئی
  • دو ہفتے کے دوران پٹرول 20 اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگا
  • سونا مزید سستا، فی تولہ قیمت میں کتنی بڑی کمی ریکارڈ ہوئی؟
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے