بابراعظم بطور بیٹر کامیاب، ٹیم مین کی حیثیت سے ناکام
اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT
نیوزی لینڈ کے ساتھ ون ڈے سیریز میں بابر اعظم بطور بیٹر کامیاب رہے البتہ ٹیم مین کی حیثیت سے ناکام رہے۔
بابر اعظم نے 3 میچز میں 43 کی اوسط سے سب سے زیادہ 129 رنز بنائے، اس میں 2 نصف سنچریاں شامل رہیں، ان کی بہترین انفرادی کاوش 78 رنز رہی، البتہ وہ کوئی میچ فنش نہ کر پائے اور پاکستان کو کلین سویپ کا سامنا کرنا پڑا۔
فہیم اشرف نے 2 میچز کھیل کر 38 کی اوسط سے 76 رنز نام بنائے، سلمان علی آغا نے 3 مواقع ملنے پر 26 کی اوسط سے 78 رنز بنائے، ان کی بہترین کاوش 58 رنز رہی۔عثمان خان نے 2 میچز میں 25.
کپتان محمد رضوان نے 3 میچز میں 24 کی اوسط سے 72 رنز نام بنائے، ان کی بہترین کاوش 37 رنز رہی، عبداللہ شفیق نے سیریز کے تینوں میچز کھیل کر مجموعی طور پر 72 رنز اسکور کیے،ان کی اوسط 23.33 رہی، 36 بہترین اننگز شمار ہوئی۔
نسیم شاہ نے ٹیل اینڈرز میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بار 3 میچز میں 68 رنز اسکور کیے، ان کی اوسط 22.66 رہی، انھوں نے ایک ففٹی بھی بنائی. طیب طاہر نے 15.66کی اوسط سے 47 رنز بنائے، جس میں 33 بہترین اننگز شمار ہوئی، سفیان مقیم 15، عاکف جاوید 10 جبکہ حارث رئوف اور امام الحق 4،4 رنز بنا سکے۔
بولنگ میں عاکف جاوید نے سب سے زیادہ 7 وکٹیں اڑائیں، انھوں نے 3 میچز میں 165 رنزکے عوض اتنے شکار کیے، فی وکٹ اوسط 23.57 رہی، عرفان خان 51 رنز دے کر 3 وکٹیں اڑائیں، ان کی اوسط 17 رنز رہی، سفیان مقیم نے 2 میچز میں78 رنز دے کر 3 شکار کیے، حارث رئوف نے 20 اوورز میں 113 رنز دے کر 3 وکٹیں لیں، نسیم شاہ نے 114 رنز دے کر 3 پلیئرز کومیدان بدر کیا،فہیم اشرف اور محمد وسیم نے 2،2 کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا۔
دوسری جانب نیوزی لینڈ کی جانب سے بین سیئرز نے 10 جبکہ جیکب ڈفی نے 7 وکٹیں لیں، ناتھن اسمتھ نے 5 شکارکیے، مارک چیپمین نے ایک میچ میں 132 کی اننگز کھیل کر اوسط میں بھی خود کو سرفہرست کرلیا، میٹ ہینری 107، ڈیرل مچل 137 اور محمد عباس 104 رنز بناکر نمایاں رہے۔
Post Views: 1
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ان کی بہترین کی اوسط سے میچز میں رنز رہی
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ