پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں اس وقت بین الاقوامی میری ٹائم ایکزیبشن جاری ہے جس میں دنیا کے تقریباً تمام خطوں سے نمائندے اور وفود شرکت کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بلیو اکانومی: پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کا آغاز، 44 ممالک شریک

حالیہ ایکسپو میں 44 ممالک کے وفود اور 178 نمائش کنندگان بشمول 28 بین الاقوامی اور 150 مقامی اداروں نے حصہ لیا ہے۔

اس نمائش میں برطانیہ، اٹلی، ایران، تُرکیہ، سعودی عرب، آسٹریلیا، مصر اور چین سمیت کئی اہم ممالک کے نمائندوں نے کی ہے۔

ایکسپو میں میری ٹائم کے مختلف شعبوں کی نمائش کی گئی ہے جن میں شپنگ اور بندرگاہیں، ماہی گیری، جہاز سازی اور ری سائیکلنگ، ساحلی ترقی اور میرین انفراسٹرکچر، میرین ٹیکنالوجی اور جدید لاجسٹکس شامل ہیں۔

مزید پڑھیے: حکومت بلیو اکانومی کے وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہیں: وزیر خزانہ

انٹرنیشنل میری ٹائم کانفرنس کا مقصد پائیدار ترقی کے لیے بلیو اکانومی کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا ہے۔ یہ ایونٹ پاکستان کے بحری شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور عالمی سطح پر اس کے کردار کو اجاگر کرنے کے لیے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: بلیو اکانومی میں اہم پیشرفت، پاکستان اور عراق کے درمیان فیری سروس شروع کرنے کا معاہدہ

نمائش میں قابل ذکر دفاعی ساز و سامان میں ڈرون گرانے والی گن ہے ساتھ ہی مقامی سطح پر تیار کردہ ڈرون ہے جو اس وقت پاکستان کے دفاع پر مامور ہے۔ ساتھ ہی آرمرڈ گاڑیاں، جنگی بحری جہاز، میزائل سمیت کئی ایسے ہتھیار ہیں جو مقامی سطح پر یا دوست ممالک کے اشتراک سے بنائے گئے ہیں۔ دیکھیے یہ ویڈیو رپورٹ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

’بلیو اکانومی‘ پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس2025 کراچی میری ٹائم ایکسپو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلیو اکانومی پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس2025 کراچی میری ٹائم ایکسپو میری ٹائم ایکسپو بلیو اکانومی کے لیے

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار