نان فارمل سکولوں کے ذریعے آئوٹ آف سکول بچوں کے چیلنج سے بہتر نمٹا جا سکتا ہے، رانا سکندر حیات
اشاعت کی تاریخ: 8th, April 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 اپریل2025ء) وزیر تعلیم رانا سکندر حیات اور سیکرٹری لٹریسی سید حیدر اقبال کی زیر صدارت محکمہ لٹریسی کا اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا ،جس میں اڈلٹ لٹریسی کادائرہ کار بڑھانے اور نان فارمل سکولوں کے ذریعے آئوٹ آف سکول بچوں کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے اقدامات پر مشاورت کی گئی۔
(جاری ہے)
وزیر تعلیم نے محکمہ لٹریسی کی کارکردگی کو سراہا اور اڈلٹ لٹریسی پر کام کا دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نان فارمل سکولوں کے ذریعے لٹریسی ریٹ مزید بہتر کیا جا سکتا ہے اور آف سکول بچوں کی بڑھتی تعداد پر اڈلٹ لٹریسی کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اڈلٹ لٹریسی پراجیکٹ کے ذریعے انرولمنٹ اور شرح تعلیم کی بہتری پر توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید کہا کہ وزیر اعلی پنجاب تعلیم کیلئے بہت مہربان اور بجٹ اور ریسورسز کی شارٹیج دور کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ وزیر تعلیم نے محکمہ لٹریسی کو ہدایت کی کہ بجٹ کی شارٹیج کے حوالے سے فوری آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر نان فارمل سکولوں کو ٹیبز فراہم کر دئیے گئے ہیں جبکہ دیگر سکولوں میں بھی سہولیات بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے ذریعے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ