بیٹی کو وراثت میں حصہ دینے سے متعلق عدالت کا بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, April 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کافیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے 27سال بعد بیوہ کو بھائی سے جائیداد میں حصہ دلوا دیا۔
جسٹس خالد اسحاق نے صدیقاں بی بی کی اپیل کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا جس کے مطابق خاندانوں میں عام طور پر جائیداد کے حوالے سے جھوٹے دعوے کیے جاتے ہیں ایسےدعوؤں کیلئے سب سےبہترین طریقہ یہ کہنا ہےکہ جائیداد مجھے زبانی تحفے میں ملی۔فیصلہ میں کہا گیا کہ بھائی نے مشکل گھڑی میں بیوہ بہن کی مدد کے بجائے شکاری کی طرح وراثتی حق چھینا، افسوسناک ہے مرد شریعت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خواتین سے وراثتی حق چھین لیتے ہیں خواتین کے وراثتی حقوق کی پوری شدت کےساتھ حفاظت کرنی چاہیے۔
تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ کسی خاتون نے خود اپنا وراثتی حق چھوڑ دیا ہے اس کا دعویٰ صحیح ثابت کرنا ہو گا، والد کے انتقال کے بعد بھائی نےساری جائیداد پر قبضہ کر لیا خاتون کےمطابق والدکی وفات کےبعدبھائی نےجائیداد میں حصہ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی، خاتون کےمطابق کچھ عرصے تک بھائی زمین سے ہونے والی آمدن کا حصہ بھجواتا رہا لیکن بہنوئی کی وفات کےبعدبھائی نےجائیداد میں حصہ دینے سے انکار کر دیا۔
فیصلے کے مطابق 2011 میں خاتون نے وراثتی جائیداد میں حصے کیلئے ٹرائل کورٹ میں دعویٰ دائر کیا بھائی کے مطابق والد نے اپنی زندگی میں ہی 59کنال اراضی اسے بطور تحفہ دیدی تھی جس پر ٹرائل کورٹ نے 2014 میں خاتون کا دعویٰ مسترد کر دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بھائی نے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
اسلام آباد ہائی کورٹ نے این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے درخواست گزار افسران کے سرکاری فرائض میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالنے سے روک دیا۔
عدالت نے این سی سی آئی اے ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکمِ امتناع بھی برقرار رکھا۔
جسٹس محمد اعظم خان نے متاثرہ افسران کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی اور این سی سی آئی اے حکام کو چار روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت تک جواب جمع نہ کرایا گیا تو عدالت رِٹ پٹیشن پر فیصلہ کرنے کے ساتھ توہینِ عدالت کی کارروائی بھی شروع کر سکتی ہے۔
دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ اتنے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کو کام سے روکنا زیادتی ہے۔ درخواست گزاروں کی جانب سے صدر سپریم کورٹ بار ہارون رشید اور منظور احمد ججہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے، جبکہ عدالت نے کیس کی سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔