کاجول اپنے نام کے ساتھ خاندان کا نام کیوں نہیں لگاتیں؟ اداکارہ کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
بالی ووڈ کی سپر اسٹار اداکارہ کاجول نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنے نام کے ساتھ خاندان کا نام لگانا کیوں پسند نہیں کرتیں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں کاجول نے بتایا کہ وہ ایک ایسے خاندان سے ہیں جس کا بالی ووڈ سے کئی برسوں سے تعلق رہا ہے اس لئے انہوں نے اپنے خاندان کی میراث کے دباؤ سے بچنے کے لیے ایسا کیا۔
مائی نیم از خان کی اداکارہ نے بتایا کہ جب وہ انڈسٹری میں داخل ہو رہی تھیں، ان کی والدہ اور لیجنڈ اداکارہ تنوجا نے بھی اس بات کی نشاندہی کی کہ ان کی بالی ووڈ میں والدہ سمیت دادی اور دادا کی طرف سے بھی لیگیسی ہے جس کا کاجول پر دباؤ ہوسکتا ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Kajol Devgan (@kajol)
کاجول نے کہا کہ ’لیکن تب بھی، اور اب بھی، میں نے محسوس کیا ہے کہ میں کسی کا ساتھ نام نہیں لینا چاہتی اور اپنے خاندان کا نام استعمال نہیں کرنا چاہتی اس لئے میں نے سوچا کی آگر میں صرف کاجول کے نام سے جانی جاؤں، تو شاید اتنا دباؤ نہیں آئے گا مجھ پر اور میری اپنی ایک پہچان ہوگی‘۔
یاد رہے کہ کاجول بالی ووڈ کی سینئر اداکارہ تنوجا اور فلم ڈائریکٹر شومو مکھرجی کی بیٹی ہیں۔ کاجول جلد وشال فوریا کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’ماں‘ میں نظر آئیں گی۔ یہ فلم 27 جون 2025 کو تھیٹرز میں ریلیز ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔