نہروں کا معاملہ، ن لیگ گرم پانیوں میں اتر گئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
مسلم لیگ نواز گرم پانیوں میں اتر گئی کیونکہ پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین اور تحریک انصاف بالترتیب ایک اتحادی اور ایک مخالف نے دریائے سندھ پر6 نئی نہروں کی تعمیر کیخلاف قومی اسمبلی میں الگ الگ قراردادیں جمع کرائی ہیں۔
جس سے متنوع سیاسی قوتوں کو حکمران جماعت پی پی پی کیخلاف مبینہ طور پر شامل کیا گیا ہے۔
نہروں کیخلاف قرارداد 7 اپریل کو اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرانے کے باوجود ابھی تک ایجنڈے پر نہیں آئی۔
مزید پڑھیں: حکومت کی اتحادی اورایک مخالف نے الگ الگ قرار دادیں جمع کرائی ہیں
پی پی پی پی کا باضابطہ بیان اس وقت آیا جب پی ٹی آئی نے جمعرات کو اس منصوبے کیخلاف اسمبلی سیکرٹریٹ میں ایک قرارداد جمع کرائی جس میں اعلان کیا گیا کہ وہ پارلیمنٹ کے ایوان زیریں سے قرارداد کی منظوری کے لیے پی پی پی پی کی حمایت حاصل کرے گی۔
تاہم پی پی پی پی کے رہنماؤں نے اہم اپوزیشن پارٹی کو ٹھنڈا کندھا دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی 7 اپریل کو پیش کی گئی قرارداد کی حمایت کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی پی پی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔