وزیراعظم شہبازشریف اور بیلاروس کے صدرالیگزینڈر لوکاشینکو کی دونوں ممالک کے مابین معاہدوں، مفاہمت کی یادداشتوں کے تبادلے کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس، دوطرفہ تجارت، اقتصادی تعاون کے مواقع سے حقیقی معنوں میں استفادہ کرنے کے عزم کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
منسک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 اپریل2025ء) وزیراعظم محمد شہباز شریف اور بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے وسیع مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کے مواقع سے حقیقی معنوں میں استفادہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ جمعہ کو وزیراعظم محمد شہباز شریف اور صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے دونوں ممالک کے مابین معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کے تبادلے کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اﷲتارڑ، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی سمیت دونوں ممالک کے وزرا اور اعلیٰ حکام موجود تھے۔(جاری ہے)
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ بیلاروس کی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور سازگار ماحول سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔
وزیراعظم نے پرتپاک استقبال اور بہترین میزبانی پر بیلاروس کی قیادت کا شکریہ کیا۔ وزیراعظم نے بیلاروس کے دارالحکومت منسک کی خوبصورتی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس شہر کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیلاروس کے صدر نے پاکستانی وفد کو اپنے فارم ہائوس پر مدعو کیا اور ان کی دعوت ایک فیملی ری یونین کی طرح تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف اور بیلاروس کے صدر لوکا شینکو نے مل کر پاکستان اور بیلاروس کی دوستی کو پروان چڑھایا اور صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے 2015 کے دورہ پاکستان نے اس دوستی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے ہماری مفید بات چیت ہوئی ہے، دونوں ملکوں کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کے لئے مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ ہوا، مفاہمتی یادداشتوں کو معاہدوں میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی بصیرانہ قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں بیلاروس نے نمایاں ترقی کی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، بیلاروس کی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور سازگار ماحول سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی 65 فیصد آبادی دیہات میں مقیم اور زراعت سے وابستہ ہے، پاکستان اور بیلاروس کو زرعی اور صنعتی شعبوں میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بیلاروس کی زرعی آلات اور مشینری میں بھی بڑی مہارت ہے، زرعی پیداوار بڑھانے کیلئے بیلاروس کے تعاون کے خواہاں ہیں اور ان کے تجربات سے استفادہ کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں کھربوں ڈالر کے معدنی ذخائر موجود ہیں اس حوالہ سے بھی پاکستان اور بیلاروس تعاون اور شراکت داری کر سکتے ہیںِ۔ وزیراعظم نے پاکستان کی ڈیڑھ لاکھ ہنرمند افرادی قوت کی بیلاروس میں کھپت کیلئے صدر لوکاشینکو کی دعوت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بیلاروس میں مقیم پاکستانی اس کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے اور غیر ملکی ترسیلات زر میں اضافہ ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ٹیکسٹائل کے شعبہ میں بی ٹو بی تعاون بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں بھی پاکستان بیلاروس سے استفادہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ تعلقات کے فروغ کے حوالے سے مثبت پیشرفت باعث اطمینان ہے۔ قبل ازیں بیلاروس کے صدر الیگزینڈرلو کاشینکو نے وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ بیلاروس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ بیلاروس پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بے حد اہمیت دیتا ہے، دونوں ملکوں کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کے اس دورے سے دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت ملے گی۔ انہوں نے پاکستان، بیلاروس بزنس فورم کے انعقاد کو تجارت کے فروغ کیلئے بہت اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کے مواقع سے حقیقی معنوں میں استفادہ کرنا ہے۔\932.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وزیراعظم نے کہا کہ مختلف شعبوں میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے بیلاروس کے صدر اور بیلاروس ہوئے کہا کہ بیلاروس کی شہباز شریف کے مابین کے مواقع شریف اور تعاون کے کے فروغ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔