بجلی کے بلوں میں مزید کمی کرنے پر کام جاری ہے ،وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, April 2025 GMT
بجٹ سازی کے لیے سرکاری اور نجی شعبے سے 98فیصد تجاویز موصول ہو گئی ہیں
تنخواہ دار طبقے کو اگلے بجٹ میں ریلیف دینے کے لیے پروگرام ترتیب دیا گیا ہے
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ جولائی یا اس سے پہلے بجلی کے بلوں میں مزید کمی کرنے پر کام جاری ہے ۔عوام کو ریلیف دینے سے متعلق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ تنخواہ دار طبقے کو اگلے بجٹ میں ریلیف دینے کے لیے پروگرام ترتیب دیا گیا ہے جس کی تفصیلات ابھی میڈیا کو نہیں بتا سکتے ۔وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کے ریلیف کی تفصیلات آئی ایم ایف کے پاس لے کر جائیں گے ، بجٹ سازی کے لیے سرکاری اور نجی شعبے سے 98فیصد تجاویز موصول ہو گئی ہیں، بجٹ تجاویز پر حکومت اور نجی شعبہ مل کر کام کر رہا ہے ۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ جن تجاویز پر عمل درآمد نہ ہو سکا اس کی وجوہات متعلقہ شعبے کو بتا دی جائیں گی، بجٹ کو اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے متعلقین کو بتا دیا جائے گا کہ کن تجاویز پر عمل درآمد ہو سکتا ہے ۔وزیرِ خزانہ نے کہا کہ یکم جولائی کو بجٹ حتمی شکل میں نافذ ہو جائے گا، یکم جولائی کے بعد بجٹ میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی، مقصد بجٹ پر عمل درآمد کے لیے زیادہ وقت دینا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پْرامید ہیں کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ مئی میں اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری دے گا، آئی ایم ایف کی طرف سے دیے گئے تمام اہداف پورے کر لیے ہیں، مانتے ہیں کہ کچھ اہداف پورے کرنے میں کچھ تاخیر ہوئی لیکن ان کو پورا کیا گیا۔وزیرِ خزانہ نے کہا کہ تاجروں سے ٹیکس وصولی بہتر ہوئی ہے ، تاجر دوست اسکیم کو تاجروں سے ٹیکس وصولی سے نہ جوڑا جائے ، ٹیکس پالیسی شعبہ اس کیلنڈر سال میں وزارتِ خزانہ کے ماتحت کام شروع کر دے گا۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کے لیے ایسا فارم ترتیب دے رہے ہیں جو ہر فرد خود بھر سکے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: محمد اورنگزیب نے کہا نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔