دہلی(نیوز ڈیسک)دہلی میں زلزلے سے بھی خطرناک ریت کے طوفان نے ہر طرف تباہی مچا دی جس سے شہری خوفزدہ ہوگئے۔

تیز ہواؤں اور تیز بارش کے ساتھ ایک طاقتور مٹی کے طوفان نے جمعہ کے روز دہلی کے کئی حصوں کو نشانہ بنایا، جس سے کئی علاقوں میں ٹریفک روانی متاثر ہوئی جبکہ درجنوں درخت جڑ سے اکھڑ گئے۔

رپورٹ کے مطابق رہائشیوں نے سوشل میڈیا پر طوفان کی جوق در جوق ڈرامائی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیں کیونکہ ان کے گھروں کے آس پاس کے علاقوں میں ہر طرف دھول چھائی ہوئی تھی۔
ایک شخص نے تبصرہ کیا کہ یہ طوفان زلزلے کی طرح محسوس ہوا، جس سے اس کے گھر میں لائٹس اور پنکھے جھول رہے تھے۔

ایک صارف کا کہنا تھا کہ ہوا اتنی تیز تھی کہ مجھے محسوس ہوا کہ عمارت لرز رہی ہے۔ میرے فلیٹ کی لائٹس پینڈولم کی طرح جھوم رہی تھیں جو مجھے 20 منٹ تک ایک زلزلے کی طرح محسوس ہو رہا تھا۔

بھارتی میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (آئی ایم ڈی) کے مطابق تیز ہوائیں دہلی سے ٹکرائیں، ائیرپورٹ پر 74 کلومیٹر فی گھنٹہ، پرگتی میدان میں 70 کلومیٹر فی گھنٹہ اور لودھی روڈ پر 69 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں۔ ہوا کی رفتار پورے شہر میں مختلف تھی، نجف گڑھ میں 37 کلومیٹر فی گھنٹہ سے صفدرجنگ میں 56 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی تھیں۔

آئی ایم ڈی نے ہفتے کے روز بھی دہلی میں تیز بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔
مزیدپڑھیں:پاکستانی نوجوانوں کیلئےبیرون ملک روزگار کا دروازہ کھل گیا

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کلومیٹر فی گھنٹہ

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان