سیالکوٹ ایئرپورٹ کے لیے سنگ میل : پنجاب اسمبلی نے PRA سروسز ٹیکس میں چھوٹ کی قرارداد منظور کر لی
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
سیالکوٹ (نیوز ڈیسک)اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سیالکوٹ اور اس کے عوام نے ایک بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر، پنجاب اسمبلی نے سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA) کے تحت خدمات پر عائد ٹیکس میں چھوٹ کی سفارش کی قرارداد منظور کر لی ہے۔ یہ اقدام خطے کی معاشی ترقی اور برآمدات کے فروغ کی جانب ایک نمایاں قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ اہم کامیابی معزز خواجہ منشاء اللہ بٹ صاحب کی مسلسل محنت اور قیادت کا نتیجہ ہے، جنہوں نے سیالکوٹ کے مفادات کے تحفظ اور ترقی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی۔ اس قرارداد کی منظوری سے سیالکوٹ ایئرپورٹ کو دیگر پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (PCAA) کے ہوائی اڈوں کے برابر مواقع میسر آئیں گے، جس سے نہ صرف ایئرپورٹ کی آپریشنل کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ علاقائی سطح پر تجارتی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملے گا۔
اس موقع پر خواجہ محمد آصف صاحب کی قائدانہ رہنمائی اور مستقل تعاون پر بھی گہرے شکریے کا اظہار کیا گیا، جنہوں نے ہر قدم پر سیالکوٹ کے لیے راہنمائی اور حمایت فراہم کی۔ ان کے علاوہ دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز جنہوں نے اس اقدام کی کامیابی میں کردار ادا کیا، ان کا بھی شکریہ ادا کیا گیا۔
یہ پیش رفت نہ صرف سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے ایک نیا باب کھولتی ہے بلکہ پورے خطے کے لیے ترقی، روزگار اور تجارتی مواقع کی نئی راہیں ہموار کرتی ہے۔ سروسز ٹیکس کی اس ممکنہ چھوٹ سے خطے میں پائیدار ترقی اور معاشی خوشحالی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
مزیدپڑھیں:جرمنی کا ویزا، پاکستانی شہریوں کے لئے بڑا اعلان
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔