کراچی؛ سی ٹی ڈی کا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، کالعدم تنظیم کا دہشتگرد گرفتار، اسلحہ برآمد
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی) سندھ نے کراچی میں کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم کے دہشتگرد کو گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کرلیا۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق سی ٹی ڈی سندھ کی خصوصی ٹیم نے سعید آباد تھانے کی حدود میں انفارمیشن بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے کالعدم بی ایل ایل سے تعلق رکھنے والا دہشت گرد داہن عرف آصف چکنا کوگرفتارکرکےاس کے قبضے سےغیرقانونی اسلحہ برآمد کرلیا۔
ترجمان کےمطابق سی ٹی ڈی سندھ کوخفیہ ذرائع سے معلوم ہوا تھا کہ گرفتارملزم داہن عرف آصف چکنا اورمحمد شفیع دہشت گردوں کوشہرمیں سہولیات فراہم کرتے ہیں اورگرفتاری سے بچنے کیلئے حب بلوچستان میں روپوش رہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: کراچی؛ سی ٹی ڈی کی کارروائی، کالعدم تنظیم کا دہشتگرد گرفتار
گرفتار ملزم داہن اور محمد شفیع قریبی ساتھی ہیں۔ محمد شفیع بی ایل اے کے دہشت گرد بہادر پی ایم ٹی کا بیٹا ہے۔ بہادر پی ایم ٹی پڑوسی ملک سے بی ایل اے کا سلپیرسیل چلا رہا ہے۔
بہادر پی ایم ٹی سی ٹی ڈی کی ریڈ بُک میں بھی مطلوب ہے۔ ملزم کی نشاندہی پر محمد شفیع کی گرفتاری کیلئے ٹیم حب روانہ کی جا رہی ہے۔ گرفتارملزم اس سے قبل بھی قتل، اقدام قتل و پولیس مقابلےکےمقدمات میں گرفتارہوکرجیل جا چکا ہے۔ملزم سے مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سی ٹی ڈی
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک