بجلی صارفین کے لیے اچھی خبر؛ 4 پاور پلانٹس ٹیرف کمی پر رضامند
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
بجلی صارفین کے لیے اچھی خبر ہے کہ 4 سرکاری پاور پلانٹس ٹیرف میں کمی پر رضامند ہوگئے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق 4 سرکاری پاور پلانٹس کی جانب سے بجلی ’’ٹیک اینڈ پے‘‘ کی بنیاد پر دینے کے لیے رضامندی کا اظہار کیا گیا ہے، اس سلسلے میں سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو باضابطہ درخواست دے دی ہے۔
4 پاور پلانٹس کی جانب سے بجلی کے ٹیرف میں کمی کرنے کی درخواست پر نیپرا میں سماعت 24 اپریل کو ہوگی ۔
واضح رہے کہ نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی بلوکی کا بجلی ٹیرف کم کیا جائے گا۔ اسی طرح نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی حویلی بہادر کا بھی ٹیرف کم ہوگا اور سینٹرل پاور جنریشن کمپنی کا پاور ٹیرف بھی کم ہوگا ۔
علاوہ ازیں ناردرن پاور جنریشن نندی پور کے ٹیرف میں کمی بھی درخواست کا حصہ ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاور پلانٹس
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔