ٹھٹھہ میں متنازع نہروں کے خلاف قوم پرست جماعتوں کے کارکنان کا احتجاج جاری تھا کہ اس دوران وزیر مملکت کا قافلہ وہاں سے گزرنے کیلیے پہنچا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیل داس کوہستانی کی گاڑی پر ٹھٹھہ میں احتجاجی مظاہرین نے پتھراؤ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹھٹھہ میں متنازع نہروں کے خلاف قوم پرست جماعتوں کے کارکنان کا احتجاج جاری تھا کہ اس دوران وزیر مملکت کا قافلہ وہاں سے گزرنے کیلیے پہنچا۔ مشتعل مظاہرین گاڑی کو دیکھ کر مشتعل ہوئے اور انہوں نے گاڑی پر انڈے ٹماٹر برسائے جبکہ شدید نعرے بازی بھی کی تاہم قافلہ وہاں سے گزر گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے وزیر مملکت مذہبی امور کھیل داس کوہستانی کی ٹھٹھہ میں گاڑی پر حملے کا نوٹس لیتے ہوئے اسے حملہ قرار دیا اور آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے رابطہ کر کے تفصیلات طلب کیں۔

اس کے علاوہ وفاقی سیکرٹری داخلہ سے واقعے کی رپورٹ طلب کی گئیں۔ وزیراطلاعات نے کہا کہ عوامی نمائندوں پر حملے ناقابل برداشت ہیں، سندھ حکومت واقعہ کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرے اور حملے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ  نے وزیرمملکت کھیل داس کوہستانی کی گاڑی پر حملے کا نوٹس لیتے ہوئے اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی کو بھی یہ حق حاصل  نہیں کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے۔ وزیراعلیٰ نے ڈی آئی جی حیدرآباد کو ہدایت کی کہ حملے میں ملوث شرپسند عناصر کو فوری گرفتار کرکے رپورٹ دی جائے۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ سندھ  نے ڈی آئی جی حیدرآباد سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: وزیر مملکت ٹھٹھہ میں گاڑی پر

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • شانگلہ:چھت منہدم‘6بچے‘گاڑی کھائی میں جا گرنے پر 6مسافر گلگت میں جاںبحق
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد