فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی، جامعہ اردو کراچی میں آئی ایس او کی احتجاجی ریلی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
ریلی سے فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابومریم، معروف مذہبی اسکالر مولانا شمس جعفری اور صدر آئی ایس او جامعہ اردو گلشن کیمپس نے خصوصی خطاب کیا اور مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ اسلام ٹائمز۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن جامعہ اردو یونٹ کے زیرِ اہتمام فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی اور غزہ، لبنان، یمن و شام پر جاری امریکی و صیہونی جارحیت کے خلاف ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا، جو ایم ایس سی بلاک تک نکالی گئی۔ ریلی میں طلباء، اساتذہ، سماجی، سیاسی و مذہبی تنظیموں کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابومریم، معروف مذہبی اسکالر مولانا شمس جعفری اور صدر آئی ایس او جامعہ اردو گلشن کیمپس نے خصوصی خطاب کیا اور مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی مظالم، عالمی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور ان کے خلاف آواز اٹھانا ہر ذی شعور انسان کی ذمہ داری بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج دنیا غزہ میں ہونے والے ظلم و بربریت کو اپنے موبائل فونز پر براہ راست دیکھ رہی ہے، مگر عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، جو باعثِ افسوس ہے۔ ریلی کے شرکاء نے فلسطینی پرچم، پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر فلسطین کی حمایت اور صیہونی ریاست کے خلاف نعرے درج تھے۔ فضا "مردہ باد اسرائیل" اور "فلسطین زندہ باد" کے نعروں سے گونجتی رہی۔ اس موقع پر طلباء و طالبات کی جانب سے فلسطین کا ایک وسیع جھنڈا بھی فضا میں بلند کیا گیا، جس نے مظلوم فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کا بھرپور منظر پیش کیا۔ ریلی کے اختتام پر دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ مظلومینِ فلسطین کو صبر، طاقت اور آزادی عطا فرمائے اور عالمی ضمیر کو بیدار کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے زیراہتمام ہونے والے حالیہ احتجاج کے دوران بھارتی پولیس اور ‘ریپڈ ایکشن فورس’ کے تشدد، لاٹھی چارج، آنسو گیس کی شیلنگ اور مبینہ طور پر پیلٹ گن کے استعمال سے متعدد مظاہرین شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس اور بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ کی رپورٹس کے مطابق، 20 جولائی کو نوجوانوں کے اس احتجاج کے دوران فورسز کے مبینہ پیلٹ گن کے استعمال سے زخمی ہونے والے کم از کم 4 افراد ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بیشتر طلبہ ہیں۔
طالب علم کی بینائی ضائع ہونے کا خدشہرپورٹس کے مطابق دہلی کے علاقے نجف گڑھ کے رہائشی اور ‘دہلی یونیورسٹی اسکول آف اوپن لرننگ’ کے 19 سالہ طالب علم سہیل لوچھب کی دائیں آنکھ میں پیلٹ لگنے سے وہ شدید زخمی ہوئے۔ 21 جولائی کو ‘آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز’ (AIIMS) میں ان کا آپریشن کیا گیا۔ تاہم ڈاکٹروں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ کو بتایا ہے کہ سہیل کی دائیں آنکھ کی بینائی بحال ہونے کے امکانات صرف ایک فیصد ہیں۔ اہل خانہ کے مطابق سہیل مستقبل میں پولیس افسر بننے کا عزم رکھتے تھے۔
حساس مقام پر پیلٹ پھنسنے سے نوجوان کی حالت تشویشناکایک اور افسوسناک واقعے میں 25 سالہ شیخ ارشاد منصوری شدید زخمی ہوئے۔ انہیں فوری طور پر ‘لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج’ منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے جراحی کے بعد ان کے چہرے سے متعدد پیلٹس نکال لیے۔ تاہم، گردن کی شریان کے بالکل قریب انتہائی حساس مقام پر پھنسے ایک پیلٹ کو تاحال نہیں نکالا جا سکا، جس سے ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
حکام کی تردید اور تحقیقات کا آغازمظاہرین اور متاثرین نے پیلٹ گنز کے بے دریغ استعمال کا الزام سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے خصوصی یونٹ ’ریپڈ ایکشن فورس‘پر عائد کیا ہے، جسے مظاہرے سے نمٹنے کے لیے بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا تھا۔
دوسری جانب، سیکیورٹی حکام نے مظاہرین پر پیلٹ گن کے استعمال کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم عوام اور میڈیا کے شدید ردِعمل کے بعد سی آر پی ایف انتظامیہ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے واقعے کی باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز ماضی میں پیلٹ گن کا استعمال زیادہ تر مقبوضہ جموں و کشمیر میں مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے کرتی رہی ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں نوجوانوں اور بچوں کی بینائی متاثر ہو چکی ہے۔ نئی دہلی کے مرکزی شہر میں اس کا استعمال ایک غیر معمولی اور شدید متنازع اقدام سمجھا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں