Daily Ausaf:
2026-07-24@10:48:10 GMT

اےکابل وقندھار کےمیرے اپنےلوگو !

اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT

(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستانی اور افغانی کا خون، رنگ ایک ہے ، جزبات اور ایمان کی حرارت بھی ایک ، یار ہماری قبروں کی سانجھ ہے ، کتنے میرے پاکستانی مائوں کے سپوت ہیں ، جو گھر سے جہا دپر نکلے اور واپس نہ پلٹے ، کوئی جانتا ہی نہیں کہ کس کی قبر کہاں ہے ، معلوم ہی نہیں کہ کس قبر کے سپرد کی گئی انسانی ہڈیوں میں سے افغان جسم کا حصہ کون ساتھا اور پاکستانی کا کون سا، تصور تو کرو ، روزقیامت کتنی قبروں میں پاکستانی اور افغان مائوں کے بیٹے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے تکبیریں بلند کرتے اٹھیں گے۔اور تو اور ہماری تو مائیں بلکہ مائوں کی دعائیں تک سانجھی ہیں ، شہیدوں کی مائیں ، جو آج بھی کہتی ہیں سارے شہید میرے بچے ہیں ، کبھی افغان ماں کو تفریق کرتے نہیں دیکھا ، کبھی کسی پاکستانی ماں کو فرق کرتے نہیں سنا ۔کیسے بھول جائیں ،بھائیوں سےبڑھ کر ان ساتھیوں کو جو افغان بھی تھے پاکستانی بھی، جب گئے تو ہم اکٹھے تھے ، لوٹے تو چند ایک، باقی آزادی کی نیلم پری کی تلاش میں دوردیس کے مسافر ہوگئے ۔کون کہاں بچھڑا ، کس کا خون کہاں گرا یاد نہیں مگر ہماری نسل کے لوگوں کے لئے تو کابل وقندھار کی ساری سرزمین ہی مزار شہیداں ہے۔ صرف افغان سرزمین ہی نہیں پاکستان کی سرزمین میں کتنے ہزار بلکہ لاکھوں افغانوں کی قبریں ہیں ،جن میں اکثریت جنگ سے بچنے ، پناہ لینے ایک بھائی کے گھر آئی تھی اور ایک بہت بڑی تعداد جہاد آزادی کی تیاری کے لئے ، اب قبروں کو کیسے بھولو گے ، کیسے الگ کرو گے،کیسےاپنی قبروں سے ہم دونوں طرف کے لوگ دشمنی کرسکیں گے؟ کیسے؟ میں اپنی بات کروں تو راتیں بیت جاتی ہیں ، یاروں کی یادیں ختم نہیں ہوتیں ،وہ مورچوں کے ساتھی ، وہ سفرحضر کے یارانے ، ویران پہاڑوں میں دشمن کے تعاقب میں بتائی تاریک راتیں ،گولیوں کی بوچھاڑ اوربموں کی برسات میں ایک دوسرے کو بچانےکی فکر ، اس جنگ کے ہنگام میں سرزد ہونے والی حماقتیں ، لطیفے اور گرما گرمی بھی تو یادوں کا اثاثہ ہے۔ محبتوں کے اس قرض ، خون کے اس گہرے رشتے اور قبروں کی سانجھ کے ہوتے ہوئے ،کس طرح ممکن ہے کہ جس دشمن کےخلاف ہم سیسہ پلائی دیوار تھے ،وہ ہمیں میدان میں نہیں ہراسکا تو ان سازشوں سے ہرادے، نہیں یہ ممکن نہیں ۔۔ اسحاق ڈار کا دورہ اور متقی و ملا حسن اخوند کا استقبال اعلان کر رہا ہےکہ ہم دشمن سے ہارنے والے نہیں ، لیکن جس منزل کی جانب قدم اٹھائے گئے ہیں ، پھولوں کی جس فصل کی کاشت کی کوشش کی گئی ہے ، یہ آسان نہیں ۔دشمن کے شاطر ہونے کا اندازہ اس سے لگالیں کہ چالیس برس ایک دوسرے کے جاں نثار رہنے والوں کو تین برس میں مدمقابل میدان کارزار تک کھینچ لایا تھا ، کیا اب وہ نچلا بیٹھے گا؟ نہیں ، قطعاً نہیں ۔آج کابل اور اسلام آباد کے درمیان یہ سفارتی ہوا، جو امید کی خوشبو لیے چل رہی ہے، اسے تیز آندھیوں سے بچانا دونوں جانب کے ارباب بست وکشاد کی ذمہ داری ہے ۔یہ وقت الزامات کا نہیں، اصلاح کا ہے۔ یہ وقت دروازے بند کرنے کا نہیں، کھڑکیاں کھولنےکا ہے۔ کاش امید کے یہ چراغ صرف سفارتی کمروں تک محدود نہ رہیں، بلکہ دلوں میں بھی اُتر جائیں کیونکہ ہماری محبت سچی ہے ، جو کانٹوں کے درمیان گلاب کھلانے کی سکت رکھتی ہے ۔
یہ سچ ہے کہ یہ نفرتیں صرف دشمنوں کی دین نہیں، ہمارے درمیان ایسی آوازیں بھی ہمیشہ سے موجود رہی ہیں جو فساد، فتنہ اور انتشار کے بیج بوتی رہی ہیں۔ یہ صرف بیرونی سازشیں نہیں تھیں جنہوں نے پاک افغان محبت کو زہر آلود کیا، بلکہ اندر کے وہ عناصر بھی شامل رہےجوجنگ، خونریزی اور لاشوں کی سیاست سے اپنے ایوان آباد کرتے رہے۔ ان کی تجوریاں ہمارے نوجوانوں کے لاشوں سے بھرتی رہیں، ان کا رزق اس خون کی ندیوں سے وابستہ رہا جو دونوں طرف بہتی رہیں۔یہ فتنے صرف ایک طرف نہیں، دونوں جانب موجود ہیں۔ وہ عناصرجو افغانستان میں امن کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں، اور وہ گروہ جو پاکستان کے استحکام سےخائف ہیں۔ ان کے لیے ہر قدم جو محبت کی طرف اٹھے، خطرہ بن جاتا ہے۔ اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگر ہم نے ان “گِدھ صفت” لوگوں کو پہچانا نہیں، اور ان کی سازشوں کو روکا نہیں، تو یہ سفر جو ابھی شروع ہوا ہے، کہیں بیچ راستے میں تھم نہ جائے۔یہ طاقتیں، یہ سازشی گروہ، صرف باہر سے نہیں آتے، وہ ہمارے اندر موجود ہیں۔ ہر اس ادارے، ہر اس سیاست دان، ہر اس مکتبِ فکر میں ان کا اثر پایا جاتا ہے جو بداعتمادی، نفرت، اور تعصب کو پروان چڑھاتے ہیں۔ ان کی فیکٹریوں میں نفرت کی فصل تیار ہوتی ہے۔ ان کی معیشت لاشوں پر کھڑی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے امن ایک کاروبار کا خاتمہ ہے۔ہمیں ایسے لوگوں سے بچنا ہے۔ ریاستوں کو صرف دشمن سے نہیں، اندرونی دشمنوں سے بھی بچاؤ کی حکمت عملی بنانی ہوتی ہے۔ ہمیں اب قومی سلامتی کا مفہوم صرف سرحدی دفاع تک محدود نہیں رکھنا، بلکہ ذہنوں اور دلوں کے تحفظ تک پھیلانا ہے۔
طالبان قیادت نے ڈار کی بات سنی، مثبت رویہ اپنایا، یہ خوش آئند قابل قدر ہے مگر صرف بیانات اور ملاقاتیں کافی نہیں، عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ افغان ہمارے دوست نہیں ، بھائی ہیں ، ہمارا مطالبہ ، ہمارا شکوہ شکائت اور خواہش صرف اتنی ہے کہ کل جس دشمن کے مقابل ہم مل کر لڑے تھے ، آج اسے ہماری لاشیں گرانے کی سہولت نہ دیں ، ارباب بست وکشاد ، دونوں جانب کے ارباب بست وکشاد من وتو کی تقسیم سےنکلیں ، سمجھ لیں کہ یہ تقسیم ہی دشمن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے ، جان لیں کہ گولی کابل میں چلے یا اسلام آباد میں لاش مسلمان کی گرتی ہے ، نقصان پاکستان اور افغانستان دونوں کا ہوتا ہے ۔ دہشت گرد پاکستان کی سرزمین سے افغانستان پر حملہ آور ہو یا افغان سرزمین استعمال کرکے پاکستان کا خون بہائے ، دونوں کا دشمن ہے ، آج ایک جانب رخ ہے، کل اسے بندوق کا رخ بدلتے دیر نہیں لگے گی ، یہ تاریخ کا سبق ہے ۔
اے کابل وقندھار کے لوگو
آئو مل کر پھول چنیں 
ان اپنوں کی یادوں کے
جو شہید ہوئےجو زندہ ہیں
آئیں ان کو یاد کریں
جو تیرے تھے جو میرے ہیں 
اے کابل اور قندھار کے لوگو
اے اسلام آباد لاہور کے لوگو

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: دشمن کے

پڑھیں:

طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات

افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی سرگرمیوں میں تیزی آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مختلف صوبوں سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق طالبان مخالف گروہوں نے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں متعدد کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے، جس سے بعض علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

رپورٹس کے مطابق ’فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے کمانڈر حامد سیفی کی قیادت میں جنگجوؤں نے 20 جولائی کو صوبہ کاپیسا کے ضلع کوہستان میں مختلف شاہراہوں پر چیک پوسٹیں قائم کیں اور اہم راستوں پر نقل و حرکت کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں پرتشدد واقعات، سابق انٹیلیجنس افسر اور قبائلی عمائدین الگ الگ حملوں میں قتل

ادھر صوبہ بدخشاں کے ضلع یفتل میں حالیہ مزاحمتی کارروائی کے بعد ضلع زیبک سے بھی طالبان مخالف حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ٹاپ خانہ کے علاقے میں طالبان کی چیک پوسٹوں کے قریب شدید جھڑپیں جاری ہیں، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق لڑائی قریبی علاقوں تک پھیلنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل ’سپاہیانِ میہن‘ نامی گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے جنگجوؤں نے یفتل میں ضلعی انتظامیہ، پولیس ہیڈکوارٹر اور انٹیلی جنس دفاتر پر قبضہ کرکے طالبان کا پرچم اتار دیا، اسلحہ، فوجی گاڑیاں اور دیگر سامان اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ بعد ازاں طالبان کی اضافی نفری پہنچنے پر علاقے کا دوبارہ کنٹرول طالبان کے ہاتھ میں آنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

تازہ رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ بدخشاں طالبان حکومت کے لیے ایک اہم دباؤ والے علاقے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں بار بار ہونے والی مزاحمتی کارروائیاں طالبان کی سیکیورٹی حکمت عملی اور صوبے پر گرفت کو چیلنج کر رہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق طالبان مخالف سرگرمیاں اب صرف پنج شیر اور اندراب تک محدود نہیں رہیں بلکہ کابل، بغلان، تخار، قندوز، کاپیسا، بلخ، ہرات اور بدخشاں سمیت متعدد صوبوں میں بھی مختلف مزاحمتی گروہوں نے کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلح مزاحمت کا دائرہ بتدریج وسیع ہو رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان بدخشاں طالبان فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ

متعلقہ مضامین

  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
  • ایران کے جزیرہ قشم میں ایک جنگی طیارہ گرنے کی اطلاعات
  • طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟