پاکستان پرامن اور ترقی پسند ملک ہے، دشمن کو قومی یکجہتی کی وجہ سےمذموم مقاصد میں ہمیشہ مایوسی کا سامنا ہوگا،لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
راولپنڈی(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔25جولائی 2025)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاہے کہ پاکستان پرامن اور ترقی پسند ملک ہے، دشمن کو ہماری قومی یکجہتی اور اتحاد کی وجہ سے اپنے مذموم مقاصد میں ہمیشہ مایوسی کا سامنا ہوگا، پوری قوم بلا کسی مذہبی امتیاز کے ہر مشکل اور ہر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی صورت کھڑی ہو کر فتح یاب ہوتی ہے،ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے لاہور میں مختلف مذاہب کے نمائندوں اور نوجوانوں کے ساتھ خصوصی نشست میں شرکت کی جہاں شرکا نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں بسنے والے تمام لوگ یک دل اور یک جان ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص میں کامیابی کو پوری قوم کی اجتماعی کامیابی قرار دیا۔(جاری ہے)
طلبا و طالبات نے آپریشن بنیان مرصوص کی تاریخی فتح پر افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پوری قوم بلا کسی مذہبی امتیاز کے ہر مشکل اور ہر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی صورت کھڑی ہو کر فتح یاب ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بسنے والے تمام مذاہب کے لوگ تاریخ، قومی نصب العین اور حب الوطنی کی بدولت یک دل اور یک جان ہیں۔ بین المذاہب ہم آہنگی ہماری قومی طاقت کی اساس ہے۔ دشمن کو قومی یکجہتی کی وجہ سے مذموم مقاصد میں مایوسی کا سامنا ہو گا۔ وطن عزیز کے روشن مستقبل کیلئے نوجوانوں کا کرداراہم ہے۔ اس موقع پر طلباء و طالبات نے آپریشن بنیان مرصوص کی تاریخی فتح پر افواجِ پاکستان کوخراج تحسین پیش کیا۔یاد رہے کہ گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چوہدری نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کا دورہ کیا تھا جہاں انتظامیہ اور طلبہ نے ان کا استقبال کیا تھا۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ بلوچ عوام پاکستان سے تاریخ، مذہب، ثقافت اور روایت کے رشتوں میں جڑی ہے، مٹھی بھر دہشتگرد ترقی و خوشحالی کا راستہ نہیں روک سکتے۔طلبا و طالبات نے آپریشن بنیان مرصوص کی تاریخی فتح پر افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا جبکہ فیکلٹی ممبران نے مزید ایسے انٹرایکٹیو سیشنز کے انعقاد کی خواہش کا اظہار کیاتھا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کایہ بھی کہناتھا کہ معرکہ حق میں فتح مُبین میں عوام کی حمایت بالخصوص نوجوانوں کا کردار اہم رہاتھا۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف آپریشن بنیان مرصوص ڈی جی آئی ایس پی آر
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔