اوپن اے آئی کا گوگل سرچ کے مقابلے پر براؤزر لانچ کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
گوگل سرچ کے مقابلے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی دو بڑی کمپنیاں اوپن اے آئی اور پرپلیکسیٹی مصنوعی ذہانت سے چلنے والے سرچ براؤزر متعارف کرانے جا رہے ہیں۔
یورو نیوز کے مطابق بدھ کے روز پرپلیکسیٹی اے آئی نے اعلان کیا کہ کمپنی نے میک اور ونڈوز کے لیے کامیٹ نامی ایک آزاد سرچ انجن لانچ کیا ہے جس نے گوگل کروم یا ایپل کے سفاری جیسے روایتی براؤزرز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
فی الحال یہ سرچ انجن صرف ان لوگوں کے لیے دستیاب ہے جنہوں نے پرپلیکسیٹی میکس کو سبسکرائب کیا ہوا ہے اور ان محدود افراد کو اس تک رسائی ہے جن کو نیا پلیٹ فارم آزمانے کی دعوت موصول ہوئی تھی۔
نئے سرچ انجن کی آزمائش میں ایک صارف نے پرپلیکسیٹی سے ایک ساتھ دو پکوان کے لیے خریداری کی لسٹ جو گروسری ویب سائٹ سے حاصل کی جاسکتی ہے سے متعلق دریافت کیا، اور بعد ازاں ان کو ایک ساتھ بنانے کی ترکیب پوچھی۔
واضح رہے کامیٹ میں ایک اے آئی اسسٹنٹ بھی ہوگا جو کلک، ٹائپ، سبمٹ اور صارف کے لیے آٹو فِل کر سکتا ہوگا۔ یہ معاون صارفین کی ای میلز اور کلینڈر کو مینج کرتے ہوئے فیڈ پر موجود اہم خبروں کو واضح بھی کرے گا۔
دوسری جانب اوپن اے آئی کے براؤزر کے حوالے سے زیادہ معلومات موجود نہیں ہے۔
ان براؤزرز کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گوگل سرچ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ گزشتہ ہفتے یورپی عدالت برائے انصاف کے ایڈووکیٹ جنرل نے گوگل کی مسابقت مخالف رویے پر 4.
2024 میں امریکا کے ایک ڈسٹرکٹ جج نے گوگل کے خلاف غیر قانونی اجارہ داری قائم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ گوگل کو امریکا کے علاوہ جاپان، کینیڈا اور برطانیہ میں انٹی ٹرسٹ تحقیقات کا سامنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔