اوپن اے آئی نے جلد ایک نیا اے آئی ویب براؤزر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جسے گوگل کروم کے متبادل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

یہ نیا براؤزر ‘پرپلیکسٹی’ کے  ‘کومٹ’ اور ‘دی براؤزر’ کے  ‘آرک’ جیسے دیگر جدید براؤزرز کی طرز پر تیار کیا جا رہا ہے جس کا مقصد ویب براؤزنگ کے روایتی انداز کو بدلنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اوپن اے آئی کا براؤزر صارفین کو چیٹ جی پی ٹی کی طرح ایک ہی جگہ سوال کے جواب میں مطلوبہ نتائج فراہم کرے گا بجائے اس کے کہ انہیں کسی اور ویب سائٹ پر ری ڈائریکٹ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے: گوگل سے ٹکر، اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی ویب براؤزر لانچ کرنے کا فیصلہ

رپورٹ کے مطابق یہ براؤزر ممکنہ طور پر اوپن اے آئی کے ‘آپریٹر’ نامی ویب براؤزنگ اے آئی ایجنٹ کے ساتھ بھی مربوط ہوگا، جو صارفین کو زیادہ مؤثر طریقے سے ویب سرفنگ میں مدد فراہم کرے گا۔

ماضی میں بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ اوپن اے آئی 2024 میں ایک مکمل براؤزر تیار کرنے کا ارادہ رکھتا تھا تاکہ گوگل کروم کی اجارہ داری کو توڑا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے: وی پی این کی بندش، چیئرپرسن قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی نے وزارت داخلہ سے جواب طلب کرلیا

ماہرین کا ماننا ہے کہ اس اقدام کا مقصد نہ صرف صارف کے ڈیٹا تک براہ راست رسائی حاصل کرنا ہے بلکہ ایسا براؤزنگ تجربہ تخلیق کرنا بھی ہے جو گوگل جیسے درمیانی پلیٹ فارمز کے بغیر کام کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اوپن اے آئی مصنوعی ذہانت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اوپن اے آئی مصنوعی ذہانت اوپن اے آئی

پڑھیں:

پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔

 موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مختلف علاقوں میں بارشیں ہی بارشیں؛محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کردی
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار