افغان گلوکاروں کے لیے پاکستان امن، محبت اور موسیقی کی پناہ گاہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
پاکستان میں مقیم افغان گلوکار آج ایک منفرد صورت حال سے دوچار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغان موسیقار خان آغا پاکستان میں پناہ کیوں چاہتے ہیں؟
طالبان حکومت کی جانب سے افغانستان میں موسیقی پر مکمل پابندی عائد کیے جانے کے بعد ان فنکاروں کے لیے واپسی کا راستہ بند ہو چکا ہے۔ اگر یہ گلوکار افغانستان واپس جاتے ہیں تو وہاں ان کے موسیقی کے آلات جیسے کہ ساز، ڈھول اور دیگر سامان یا تو ضبط کر لیے جائیں گے یا تلف کر دیے جائیں گے۔ اس اقدام نے افغانستان میں موسیقی اور فن سے جڑی روح کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اس کے برعکس پاکستان ان گلوکاروں کے لیے ایک پرامن اور محبت بھرا ٹھکانہ بن کر سامنے آیا ہے۔
کوئٹہ میں یہ فنکار آزادی کے ساتھ اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی اور محبت سے بہت خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان سے بے حد محبت کرتے ہیں۔ اس ملک نے ہمیں پناہ دی، عزت دی اور اپنے فن کو زندہ رکھنے کا موقع دیا۔
مزید پڑھیے: واپس نہیں جانا چاہتے، افغان فنکار پشاور ہائیکورٹ پہنچ گئے
یہ گلوکار پاکستان میں نہ صرف محفوظ ہیں بلکہ ان کا فن بھی یہاں پنپ رہا ہے۔ پاکستان نے انہیں وہ عزت اور مقام دیا ہے جس سے وہ افغانستان میں محروم ہو چکے تھے۔ ان کی امید ہے کہ ایک دن ان کا وطن بھی موسیقی اور ثقافت سے محبت کرے گا، لیکن فی الحال، پاکستان ان کے لیے ایک ایسا دوسرا گھر ہے جہاں وہ سکون، عزت اور محبت کے ساتھ جی رہے ہیں۔ دیکھیے عبدالوکیل کی یہ ویڈیو رپورٹ۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان گلوکار افغان گلوکار اور پاکستان افغان گلوکار پاکستان میں افغان گلوکاروں کا مسئلہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان گلوکار افغان گلوکار پاکستان میں کے لیے
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن