اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 26 جولائی 2025ء) گرین پیس کا کہنا ہے کہ ہائیڈرولک فریکنگ سے حاصل کی گئی گیس سے لدے ٹینکر کے خلاف اس کے کارکنوں نے ایڈنبرا کے ایک پل سے خود کولٹکا کر احتجاج کیا۔ تاہم ان کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔

اسکاٹش شہر ایڈنبرا کے قریب فورس روڈ برج کو جمعے کے روز گرین پیس کے دس کارکنوں کی جانب سے خود کو لٹکا کر آبی ٹینکر کو روکنے کی کوشش پر بند کر دیا گیا تھا۔

یہ ٹینکر گرنچ ماؤتھ میں واقع آئنیوس پیٹرو کیمیکل پلانٹ کی طرف جا رہا تھا۔

اسکاٹ لینڈ پولیس کا کہنا ہے کہ اسے جمعے کو دوپہر مقامی وقت کے مطابق ایک بجے کے قریب اس احتجاج کے بارے میں اطلاع دی گئی تھی۔ اس وقت مظاہرین نے رسیوں کا استعمال کرتے ہوئے خود کو پل سے لٹکا دیا تھا اور وہ پانی کی سطح سے لگ بھگ 25 میٹر اوپر لٹکے ہوئے تھے۔

(جاری ہے)

ہفتے کی صبح گرین پیس نے اعلان کیا کہ اس نے یہ احتجاج ختم کر دیا ہے اور طے شدہ مقاصداس مظاہرے کے نتیجےمیں حاصل کر لیے ہیں۔

اس عالمی تنظیم کے مطابق چوں کہ یہ بحری ٹینکر فقط اونچی لہروں کے دوران ہی پل کے نیچے سے گزر سکتا تھا، اس لیے اس احتجاج کا نتیجہ اس ٹینکر کی کم از کم ایک روز تک تاخیر کا سبب بنا۔

گرین پیس کا کہنا ہے کہ یہ تمام دس کارکن بعد میں بہ حفاظت ساؤتھ کوئنز فری کی بندرگاہ لوٹ آئے، تاہم وہاں پولیس نے انہیں 'لاپروانہ رویہ‘ برتنے کے الزام کے تحت حراست میں لے لیا۔

گرین پیس برطانیہ کی پروگرام ڈائریکٹر ایمی کیمرون نے کہا، ''ہم نے جو طے کیا تھا، وہ حاصل کر لیا۔ آئنیوس کو روکے رکھنے سے ہم نے کمپنی کی پلاسٹک کی پیداوار کی نہ ختم ہونے والی بھوک، جھوٹے حل اور ارب پتی مالک جم ریٹکلف کے منافع کی لالچ کی طرف عالمی توجہ مبذول کرائی۔‘‘

انہوں نے ''پلاسٹک آلودگی‘‘ کو ایک بہت بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا، ''اس وقت عالمی سطح پر محض 10 فیصد پلاسٹک کی ری سائیکلنگ ہوتی ہے اور 2060 ء تک یہ بڑھ کر بھی فقط 17 فیصد تک پہنچے گی جبکہ پلاسٹک کی پیداوار میں اضافہ تین گنا ہو چکا ہو گا۔

مسئلے کو حل کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اس کے منبع کو ختم کیا جائے، یعنی ایسا عالمی معاہدہ تیار کیا جائے جس میں پلاسٹک کی پیداوار پر قانونی پابندیاں عائد ہوں۔‘‘

گرین پیس کا اصرار ہے کہ ان کا احتجاج محفوظ تھا اور اس نے عام بحری آمد دو رفت میں ''نہایت کم خلل‘‘ ڈالا۔ اس تنظیم کے مطابق اس احتجاج کے لیے مظاہرین کو کئی ہفتے تربیت دی گئی تھی۔

ادارت: شکور رحیم

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پلاسٹک کی گرین پیس

پڑھیں:

ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔

عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔

Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.

Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.

— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟